عسکریت پسندوں نے فوجی کیمپ میں گھسنے کی کوشش کی۔ فائرنگ کے تبادلہ میں فوج کو بھی جانی نقصان ہوا
جموں : جموں وکشمیر کے ضلع راجوری کے پرگرال درہال فوجی کیمپ پر جمعرات علی الصبح جنگجوؤں نے فدائین حملہ کیا جس وجہ سے 3 فوجی ، دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ ایک میجر سمیت مزید دو اہلکار شدید طورپر زخمی ہوئے ۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جموں رینج مکیش سنگھ نے بتایا کہ جمعرات کی صبح مشتبہ ملی ٹینٹوں نے پرگرال فوجی کیمپ کے اندر زبردستی گھسنے کی کوشش کی جس دوران گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو فدائین مارے گئے ۔فوج کے نائٹ کارپس ترجمان نے بتایا کہ رات کی تاریکی میں دو عسکریت پسندوں نے فوجی کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی جس دوران حفاظت پر مامور اہلکاروں اور جنگجووں کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہوئے تین فوجی اہلکار ہاسپٹل میں دم توڑ گئے جبکہ میجر سمیت دو اہلکاروں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ یوم آزادی سے قبل فوجی کیمپ پر حملے کے بعد جموں وکشمیر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق راجوری کے درہال پولیس اسٹیشن سے چھ کلومیٹر کی دوری پر واقع فوجی کیمپ پر جمعرات اعلیٰ الصبح جنگجووں نے فدائین حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی شدید طورپر زخمی ہوئے اگر چہ اُنہیں اُدھم پور فوجی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے تین فورسز اہلکاروں کو مردہ قرار دیا جبکہ مزید دو کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے ۔راجوری کے پرگرال فوجی کیمپ پر فدائین حملے کے بعد مزید جنگجوؤں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظرفوج نے چھ کلومیٹر علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے ۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ راجوری کے پرگرال فوجی کیمپ پر حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لے کر فدائین کے مدد گاروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ علاقے میں مہلوک فدائین کے ساتھی موجود ہوسکتے ہیں جس کے پیش نظر فوج نے درہال سے پرگرال تک کے چھو کلومیٹر علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن کا دائرہ وسیع کیا۔دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ فوج کی اضافی بٹالین کو طلب کرکے رہائشی آبادی کے ساتھ ساتھ جنگلوں کو بھی محاصرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ ڈرون کیمروں کے ذریعے علاقے کی نگرانی اور کھوجی کتوں کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ درہال سے پرگرال تک کے چھ کلومیٹر علاقے کو پوری طرح سے فوجی نے محاصرے میں لے رکھا ہے جبکہ ان علاقوں کی طرف کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ رپورٹ فائل کرنے تک علاقے میں تلاشی آپریشن جاری تھا۔