راجہ سنگھ کی معطلی کے مسئلہ پر بی جے پی کشمکش کا شکار

   

پارٹی قائدین کا ایک طبقہ معطلی برخواست کرنے کا حامی ۔ ریاستی قیادت کچھ بھی کرنے سے قاصر
حیدرآباد 3 فبروری ( سیاست نیو ز ) معطل شدہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے سیاسی مستقبل کے مسئلہ پر تلنگانہ میں بی جے پی کشمکش کا شکار ہے ۔ راجہ سنگھ کے حامی اور پارٹی کے کچھ قائدین چاہتے ہیں کہ ان راجہ سنگھ کی معطلی کو برخواست کیا جائے ۔ تاہم ریاستی قیادت ایسا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ راجہ سنگھ نے شان رسالت ؐ میںگستاخی جیسی حرکت کی ہے ۔تلنگانہ پارٹی قائدین کے بموجب راجہ سنگھ کو معطلی کے مسئلہ پر پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے کسی بھی فیصلے تک انتظار ہی کرنا ہوگا ۔ رکن اسمبلی گوشہ محل کو گذشتہ سال اگسٹ میں اس وقت معطل کردیا گیا تھا جب انہوں نے شان رسالت ؐ میں گستاخی کی مذموم حرکت کی تھی ۔ راجہ سنگھ کو اس مسئلہ میں گرفتار کرتے ہوئے سٹی پولیس نے پی ڈی ایکٹ بھی لاگو کیا تھا ۔ وہ فی الحال ضمانت پر ہیں۔ ہائیکورٹ سے انہیںضمانت دی گئی تھی ۔ تاہم عدالت نے راجہ سنگھ پر شرط عائد کی تھی کہ وہ کسی طرح کی اشتعال انگیزی نہیں کرینگے ۔ کوئی بیانات نہیں دینگے اور نہ ہی عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔ تاہم راجہ سنگھ کیلئے مسائل ختم ہوتے نظر نہیں آتے ۔ راجہ سنگھ سے قبل پارٹی کی معطل شدہ ترجمان نپور شرما نے بھی اسی طرح کے ریمارکس ٹی وی پر کئے تھے جس کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت نے بین الااقوامی تنقیدوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں معطل کردیا تھا ۔ اسی طرح راجہ سنگھ کو بھی گستاخانہ ریمارکس پر فوری معطل کیا گیا تھا ۔ ایک سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ راجہ سنگھ کو بحال کرنے کے مطالبات کئے جا رہے ہیں لیکن دوسرے بھی پارٹی قائدین ہیں جو دوسری ریاستوں کے ہیں جو معطل ہیں۔ وہ پارٹی رکن اسمبلی ہیں اور ہم انہیں واپس لانے کی کوشش کریں گے ۔ ضمانت پر رہائی کے بعد بھی راجہ سنگھ اپنی اشتعال انگیزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہائیکورٹ کی شرط کے باوجود وہ بیان بازیاں کر رہے ہیں اور ان پر عائد تحدیدات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ وہ فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز ریمارکس ریاست کے باہر جا کر کرنے لگے ہیں۔ ان کے خلاف عدالتی احکام کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک مقدمہ بھی منگل ہاٹ پولیس میں درج کرلیا گیا ہے ۔ چونکہ راجہ سنگھ اشتعال انگیز بیانات جاری رکھے ہوئے ہیں اس لئے پارٹی اس تعلق سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر پا رہی ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا راجہ سنگھ کو اس طرح کی بیان بازیوں سے روکا جائیگا پارٹی لیڈر نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ راجہ سنگھ دو مرتبہ کے رکن اسمبلی ہیں۔ اب چونکہ تلنگانہ میں انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے دیکھنا یہ ہے کہ آیا راجہ سنگھ پر عدالت کی تحدیدات میں نرمی دی جاتی ہے یا پھر بی جے پی سے انہیں کوئی راحت فراہم کی جاتی ہے ۔