اقلیتی کارپوریشن کو 2,04,202 درخواستیں ، سب سے زیادہ بی سی ، سب سے کم کرسچین درخواستیں
حیدرآباد۔ 18 اپریل (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے بیروزگار نوجوانوں کو خود روزگار فراہم کرنے کیلئے متعارف کردہ ’’راجیو یووا وکاسم اسکیم‘‘ پر غیرمتوقع ردعمل حاصل ہوا۔ چار ہفتوں میں جملہ 16.23 لاکھ درخواستیں وصول ہوئیں، ان میں سب سے زیادہ بی سی کارپوریشن کے 8 لاکھ درخواستیں وصول ہوئیں۔ سال 2025-26ء کے ریاستی بجٹ میں حکومت نے اس اسکیم کیلئے 6 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ 4 لاکھ روپئے تک مالی امداد فراہم کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ 17 مارچ سے 14 اپریل کی رات 11:59 منٹ تک 16,23,764 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ عہدیدار ان درخواستوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عہدیداروں کی جانب سے ان درخواستوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا۔ یونٹ کی قدر کے لحاظ سے درخواستوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے۔ 50 ہزار روپئے مالی امداد کیلئے وصول ہونے والی امداد کو پہلا زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک لاکھ روپئے تک کی درخواستوں کو دوسرے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ایک لاکھ تا 2 لاکھ روپئے تک کی درخواستوں کو تیسرے زمرے میں شامل کیا گیا ہے جبکہ 2 لاکھ تا 4 لاکھ روپئے تک کی درخواستوں کو چوتھے زمرہ میں رکھا گیا ہے۔ تازہ طور پر وصول ہونے والی درخواستوں میں سب سے کم پہلے زمرے میں 39,401 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ اس کے بعد دوسرے زمرے میں 93,233 درخواستیں، تیسرے زمرے میں 24 لاکھ 9,434 درخواستیں اور چوتھے زمرے میں 12 لاکھ 41 ہزار 696 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ درخواست داخل کرنے والوں کی عمریں 21 تا 55 سال ہیں۔ زرعی شعبہ کیلئے درخواست دینے والوں کی عمر 60 سال تک بھی ہے۔ وصول ہونے والی درخواستوں کا منڈل سطح کی کمیٹیاں جائزہ لے رہی ہیں۔ 2