پانچ لاکھ نوجوانوں کو 6250 کروڑ سبسیڈی کا منصوبہ، فلاحی اسکیمات میں بینکوں کا اہم رول ، بینکرس اجلاس سے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کا خطاب
حیدرآباد ۔ 22۔ مئی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے بینکرس پر زور دیا کہ وہ راجیو یووا وکاسم اسکیم کے استفادہ کنندگان کو قرض جاری کرتے ہوئے 2 جون سے شروع ہونے والی اسکیم کی کامیابی میں اہم رول ادا کریں۔ بھٹی وکرمارکا نے اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 5 لاکھ نوجوانوں کو راجیو یووا وکاسم اسکیم کے ذریعہ سبسیڈی پر مبنی قرض فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نوجوان خود روزگار کے تحت کاروبار شروع کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کی کامیابی میں بینکرس کا اہم رول ہے۔ حکومت کی جانب سے منتخب امیدواروں کو سبسیڈی کے علاوہ درکار قرض جاری کیا جائے گا۔ بھٹی وکرمارکا نے مالیاتی سال 2025-26 کے تحت بینکرس کو قرض کی اجرائی کے نشانہ کی تکمیل کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سبسیڈی کی طور پر 6250 کروڑ جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے علاوہ خود روزگار اسکیمات سے مربوط کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ راجیو یووا وکاسم کے تحت بینکرس سے اشتراک کیلئے نوڈل آفیسرس کا تقرر کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے کسانوں کے قرض معافی اسکیم کے تحت 21,000 کروڑ کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کئے ہیں۔ قبائلی کسانوں کیلئے 12600 کروڑ سے نئی اسکیم متعارف کی گئی جس کے تحت سولار پمپ سیٹس تقسیم کئے جائیں گے ۔ آئندہ پانچ برسوں میں ویمنس سیلف ہیلپ گروپس کو ایک لاکھ کروڑ قرض جاری کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم پر عمل آوری جاری ہے۔ حکومت نے ہر اسمبلی حلقہ میں اسکل یونیورسٹی کے تحت اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ اور ریجنل رنگ روڈ کے درمیان صنعتی شعبہ کو ترقی دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق راجیو یووا وکاسم کے منتخب امیدواروں کو 2 جون سے منظوری لیٹرس جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سبسیڈی کے علاوہ بینکرس کو قرض جاری کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں امیدواروں کو محض 30 فیصد سبسیڈی فراہم کی گئی تھی لیکن کانگریس حکومت نے سبسیڈی کی رقم میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکرس کو محض 0.2 فیصد قرض جاری کرنا ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے انتخابی وعدوں کی تکمیل اور حکومت کی نئی فلاحی اسکیمات کی تفصیلات بیان کرکے کہا کہ حکومت ترقی کے ساتھ فلاحی اسکیمات کو ترجیح دے رہی ہے۔ اجلاس میں اسپیشل چیف سکریٹری فینانس سندیپ کمار سلطانیہ ، پرنسپل سکریٹری ایس سی ڈیولپمنٹ این سریدھر ، سکریٹری قبائلی بہبود شرد، سکریٹری بی سی ویلفیر سریدھر ، آر بی آئی کے ریجنل ڈائرکٹر سی کمار نبارڈ کے چیف جنرل مینجر ادے بھاسکر ، ایس بی آئی کے ڈپٹی مینجنگ ڈائرکٹر راجیش کمار اور ایس ایل بی سی کے کنوینر پرکاش چندرا و دیگر نے شرکت کی۔1