چنئی: بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر اور مزدور اور روزگار کی مرکزی وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے بنگلورو میں رامیشورم کیفے دھماکے سے تمل ناڈو کے لوگوں کو جوڑنے والے اپنے تبصروں کے لیے مدراس ہائی کورٹ میں معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ ان کا کبھی بھی تمل ناڈو کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ محترمہ کرندلاجے نے منگل کو مدراس ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا اور معافی مانگی۔ انہوں نے یہ حلف نامہ مدورائی پولیس کے ذریعہ ان کے خلاف درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران داخل کیا۔ حلف نامے میں، انہوں نے کہا کہ اگر اس سال مارچ میں بنگلورو میں رامیشورم کیفے دھماکے کے دوران میڈیا کے سامنے ان کے بیانات سے تمل ناڈو کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ معافی مانگتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلورو میں رامیشورم کیفے بم دھماکہ کیس کے سلسلے میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے تمل ناڈو کے لوگوں کے بارے میں جو مبینہ ریمارکس کئے گئے ہیں وہ ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے نہیں کئے گئے ہیں۔