طلبہ، کسان، مزدور، خواتین، نوجوان اور تاجر جسے جمہوریت کی فکر ہے وہ ضرور آئیں: راہول
نئی دہلی 25؍اکتوبر( ایجنسیز )کانگریس قائد راہول گاندھی نے طلبہ، نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں، خواتین اور تاجروں سے یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی عظیم الشان ریالی میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ووٹ چرایا جا رہا ہے اور ہم کسی بھی حال میں اسے خاموشی سے برداشت نہیں کریں گے۔ راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ووٹر لسٹوں سے نام کاٹے گئے۔ قواعد و قوانین توڑے گئے اور سوال پوچھنے والوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ اب ملک جواب دے گا۔یکم نومبر کے پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے راہول گاندھی نے سماج کے مختلف طبقوں کے لوگوں سے قومی راجدھانی کے رام لیلا میدان میں جمع ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ یکم نومبر دہلی چلو! ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ جَن مارچ اور عظیم ریالی۔ طلبہ، کسان، مزدور، خواتین، نوجوان اور تاجر جس جس کو جمہوریت کی فکر ہے وہ ضرور آئے۔ ووٹ آپ کا ہے۔ لڑائی بھی آپ کی ہے۔اپنی پوسٹ میں راہول گاندھی نے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو طنزیہ انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کا دل سے شکریہ جو اس پروگرام کی اتنے زور و شور سے تشہیر کر رہے ہیں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ بس آئندہ 7 روز بھی یہی جوش اور لگن برقرار رکھیے۔ رواں ماہ 5 اکتوبر کو ملکارجن کھرگے کی صدارت میں کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی نے اس مہم کو ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ کا نام دیا ہے۔ میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے بتایا تھا کہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ’مہاریالی‘ منعقد ہوگی جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے بعد 25 اور 26 نومبر کو 6 مختلف ریاستوں سے ’دہلی چلو‘ یاترا نکالی جائے گی اور دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ، سی ای سی ہٹاؤ‘ کے نعرے کے ساتھ بڑا احتجاج کیا جائے گا۔ دوسری طرف سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اور ’انڈیا‘ اتحاد کیلئے ایک حوصلہ افزا پیش رفت کے طور پر، دہلی پولیس نے ہفتہ کے روز کانگریس کو یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ایک بڑی ریلی منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔ کے سی وینو گوپال نے کہا ہیکہ ریالی میں 10 لاکھ افراد کے جمع ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔