…: ایودھیا اراضی تنازعہ : …
نئی دہلی ۔ 21اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) ایودھیا میں لارڈ رام کی جائے پیدائش از خود مندر ہے اور کوئی بھی وہاں مسجد جیسا کوئی ڈھانچہ تعمیر کرتے ہوئے مقدس مقام پر ملکیتی حق دعویداری نہیں کرسکتا ، کونسل برائے رام للّا نے آج سپریم کورٹ میں یہ دلیل پیش کی ۔ رام للّا ورجمان جو کئی دہوں سے جاری رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد تنازعہ کے فریقوں میں سے ہے ، اُس نے کہا کہ ہندوؤں نے ہمیشہ یہی ایقان رکھا اور جنم استھان میں عبادت کے اپنے حق سے استفادہ کیا ہے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی پانچ ججوں کی بنچ نے ملکیتی تنازعہ سے متعلق کیس کی آج 9ویں روز سماعت کی ۔ بنچ کو سینئرایڈوکیٹ سی ایس ویدیاناتھن نے بتایا کہ نرموہی اکھاڑہ اور نہ ہی مسلم فریقین ایودھیا میں 2.77ایکڑ کی متنازعہ اراضی پر اپنی ملکیت کا حق ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں ۔ عدالتی بنچ کے دیگر جج جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنذیر ہیں ۔ ویدیا ناتھن نے کہا کہ اگر جائیداد خود بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے تو پھر کوئی بھی محض وہاں مسجد جیسا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہوئے ملکیتی حق حاصل ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا ہے ۔ ویدیاناتھن نے اپنے دلائل تقریباً 5روز قبل پیش کرتے ہوئے آج اپنی بحث مکمل کرلی اور مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے نکتہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس طرح کے قبضے کا کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔