راہول گاندھی سے عامر علی خان کے دو ٹوک سوالات

   

مذہب کے نام پر مسلمان نشانہ پر ۔ سکیولر جماعتیں خاموش کیوں ہیں ؟
مسلمان ہندوستان کا مضبوط حصہ ۔ کسی کے کچھ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کانگریس لیڈر کا جواب

حیدرآباد۔/3 نومبر، ( سیاست نیوز) ہندوستان کو وطن عزیز بنانے کے باوجود مذہب کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور80-20 کے فارمولہ میں آر ایس ایس و بی جے پی کی کامیابی اور ان حالات میں سیکولر جماعتوں کی خاموشی پر جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر ’سیاست‘ نے کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی سے سوالات کئے۔ جناب عامر علی خاں کے سوالات پر راہول گاندھی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان سوالات کی قدر کرتے ہیں لیکن اتفاق نہیں کرتے۔ سابق صدر راہول گاندھی چند مسلم نمائندوں کے ایک اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے جناب عامر علی خاں کے سوالات پر کہا کہ مسلمان ملک کا حصہ ہیں اور ملک کی تعمیر میں مسلمانوں کے رول اور تحریک آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمان ہمیشہ ملک کے ساتھ رہے اور ملک کا مضبوط حصہ ہیں۔ مسلمانوں کے رول اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ جو بھی شہری ملک کے دستور اور ترنگے کا احترام کرتا ہے وہ ہندوستانی ہے اور کسی کے کچھ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر ’سیاست‘ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مسلمانوں کی حالت زار اور مسلمانوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات ماب لیچنگ کا حوالہ دیا اور کہا کہ آبادی کے 80-20 کے فارمولہ میں آر ایس ایس اور بی جے پی کامیاب رہی ۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں دلتوں اور مسلمانوں کو سماجی اور معاشی تحفظ کی کوئی گیارنٹی نہیں۔ عامر علی خاں نے راہول گاندھی کو ایسے میکانزم کا مشورہ دیا جس سے کہ مسلمانوں اور دلتوں کو حقیقی انصاف مل سکے۔ جناب عامر علی خاں کے سوال پر راہول گاندھی نے 2019 کے کانگریس کے انتخابی منشور کا حوالہ دیا اور منشور میں درج’ نیائے ‘ اسکیم کا ذکر کیا جس کے بعد سالانہ ہر خاندان کو72 ہزار فراہم کئے جاسکتے تھے۔ جناب عامر علی خاں جنہوں نے تلنگانہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کا آغاز کیا راہول گاندھی سے کہا کہ مسلمان آپ کی حکومت سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ انہوں نے مرکز میں کانگریس حکومت میں مساویانہ مواقع کمیشن کی تشکیل ، مرکزی وزارت میں اقلیتی اُمور کی وزارت کو ایک کارنامہ قرار دیا اور تلنگانہ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کا بھی ذکر کیا، اور افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج ان 4 فیصد تحفظات کو لاحق خطرہ سے بچانے میں موجودہ ریاستی حکومت کوئی حکمت عملی نہیں رکھتی اور نہ اس جانب اقدامات کئے جارہے ہیں۔ جناب عامر علی خاں نے راہول گاندھی سے کہا کہ جب مسلمان ہندوستان کو اپنا وطن عزیز مانتے ہیں تو انہیں دیگر شہریوں کے مماثل مراعات اور انصاف بھی ملنا چاہیئے۔ جہاں تک تلنگانہ کا سوال ہے ریاست میں ایس سی طبقہ کیلئے 17 ہزار کروڑ جن کی آبادی تقریباً 56 لاکھ، ایس ٹی کیلئے 43 لاکھ آبادی پر 9 ہزار 9 سو کروڑ کا بجٹ اور 50 لاکھ آبادی والے مسلم طبقہ کیلئے صرف 12 سو کروڑ جو ایک بھیک کی مانند ہے۔ حکمرانوں نے سیکولر لبادہ میں مسلمانوں کی حالت کو ابتر بنادیا ۔ راہول گاندھی نے ان سوالات کے تعلق سے کہا کہ کانگریس ‘بی جے پی کے نظریہ کے خلاف عوام میں متبادل ویژن پیش کررہی ہے اور ملک میں پھیلائے جارہے نفاق اور فرق کو کانگریس کی جانب سے ختم کیا جائیگا اور یاترا کا اہم مقصد بھی عوام کو باہم جوڑنا ہے ۔ راہول نے کہا کہ کانگریس اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے عہد کی پابند ہے اور اس پر کسی کو شکوک میں مبتلاء ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ع