تہران : ایران کے آخری بادشاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گزشتہ برس ستمبر سے جاری ایران حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کے لیے مزید اقدامات کرے۔ ایرانمیں گزشتہ برس ایک 22 سالہ ایرانی کرد خاتون جینا مہسا امینی کی ملک کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت اور ملک میں خواتین کے لیے لازمی حجاب پہننے کے قوانین کے ردعمل میں شروع ہونے والے پْر تشدد مظاہرے مسلسل زور پکڑتے رہے یہاں تک کہ تہران کی سخت گیر موقف رکھنے والی مذہبی حکومت کے لیے حالات پر قابو پانا ایک چیلنج بن چْکا ہے۔ احتجاج اور پْر تشدد مظاہروں کی آگ پھیلنے کے بعد سے اب تک ایرانی حکام نے کم از کم چار افراد کو پھانسی دے دی ہے جنہوں نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ رضا پہلوی نے ڈی ڈبلیو کی شعبہ فارسی کی سربراہ یلدا زربخش کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہا،م”سب سے اہم کردار جو بین الاقوامی برادری ایرانی عوام کی حمایت میں اور حکومت کی جانب سے مزید پھانسیوں یا کسی بھی قسم کے تشدد کی کوششوں کو روکنے میں ادا کر سکتی ہے، وہ ہے ایران کے خلاف پابندیوں اور تعزیری اقدامات کی سطح کو بڑھانے کا عمل۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کے دور میں اْس کے سیاسی بائیکاٹ، اْسے الگ تھلگ کر دینے اور اْس کے حکومتی اثاثوں کو منجمد کرنیجیسے اقدامات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایرانی حکومت کے خلاف عالمی برادری کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔