واشنگٹن ۔ 30؍اگست ( ایجنسیز )امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے رواں ہفتے اپنے خفیہ دورٔ ماسکو کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔امریکی ویب سائٹ ’’ایکسِیوس‘‘ نے کل باخبر دو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ تجویز روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت سامنے آئی۔اس دورے کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جان ریٹکلف نے ذاتی طور پر روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔ریٹکلف منگل کو غیر اعلانیہ دورے پر ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے روسی خارجی انٹیلی جنس سروس (SVR) کے سربراہ سرگئی ناریشکن اور وفاقی سکیورٹی سروس (FSB) کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورٹنیکوف سے ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران مذاکرات میں تعطل کے بعد ماسکو اور کیف کے درمیان سفارتی کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔دونوں ذرائع نے مزید بتایا کہ ماسکو میں اپنی ملاقاتوں کے دوران جان ریٹکلف نے روس اور یوکرین کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے یہ بھی جائزہ لیا کہ آیا روس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیدار صدر ولادیمیر پوتن پر اثرانداز ہو کر انہیں دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے اختتام پر ریٹکلف اس نتیجے پر پہنچے کہ الیگزینڈر بورتنی کوف ایک تعمیری فریق ثابت ہو سکتے ہیں اور روس و یوکرین کے درمیان سفارتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔دوسری جانب ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے رپورٹ کیا کہ جان ریٹکلف نے روسی حکام کو جنگ کی صورتِ حال کے حوالے سے ایک ’’مایوس کن‘‘ جائزہ پیش کیا اور ماسکو پر زور دیا کہ حالات مزید خراب ہونے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرے۔جمعے کے روز امریکی حکام نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی کو ماسکو میں ریٹکلف کی ملاقاتوں کے نتائج سے آگاہ کیا، جن میں ٹرمپ، پوتن اور زیلینسکی کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز بھی شامل تھی۔ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی تینوں رہنماؤں کے درمیان سربراہی اجلاس کی تجویز پیش کر چکی ہے۔ زیلینسکی نے اس تجویز کی حمایت کی تھی، جبکہ پوتن نے اسے مسترد کر دیا تھا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’’ایکسِیوس‘‘ کو بتایا کہ ریٹکلف کا ماسکو مشن ’’معمول کی کارروائی‘‘ تھا اور اس کا مقصد روس کو شمالی اوقیانوس کے فوجی اتحاد (نیٹو) کی سرزمین پر کسی ممکنہ حملے کے حوالے سے خبردار کرنا نہیں تھا۔