ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وہ یوکرین کی طرف سے روسی گیس کی یورپ کو ترسیل کے معاہدے میں توسیع نہیں کرنا چاہتے اور کہا کہ یہاں مختلف راستے ہیں جن کے ذریعے روسی گیس یورپی صارفین تک پہنچائی جا سکتی ہے، اور ہم اس طریقے سے ترسیل کو مسترد نہیں کرتے۔ روس کے سرکاری چینل Rossiya-24 کو اپنے بیان میں، پوتن نے یوکرین کے ساتھ سال کے آخر تک مدت پوری ہونے والے روسی گیس کی یورپ کو ترسیل کے حوالے سے معاہدے کے عمل پر اپنا جائزہ پیش کیا۔یوکرین کو جولائی 2024 سے پہلے معاہدہ میں توسیع کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت کا دفاع کرتے ہوئے پوتن نے کہاکہ میرے خیال کے مطابق یوکرین کی طرف سے اس سمت میں کوئی قدم اٹھانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔یہ بتاتے ہوئے کہ روس یوکرین کے راستے سمیت روسی گیس کی ترسیل سے انکار نہیں کرتا، پوتن نے کہا، لیکن بظاہر یوکرین ایسا نہیں کرے گا۔ یوکرینی قدرتی گیس کے حکام نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ ٹرانزٹ معاہدے میں توسیع نہیں کریں گے۔ “اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے یہ راستہ بند کر دیا ہے۔یوکرینی کابینہ نے اعلان کیا تھاکہ ان معاہدوں میں 2024 کے بعد توسیع نہیں کی جائے گی۔