روس نے سوچا تھا کہ صرف تین دن میں یوکرین پر قبضہ ہو جائے گا، ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن سے الوداعی خطاب
واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روس کو لگتا تھا یوکرین پر 3 دن میں قبضہ کر لے گا، آج 3 سال بعد بھی وہ آزاد ہے۔ ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ میں سیاسی تشدد کی کوئی جگہ نہیں، امریکیوں کی بدولت ہمارے 4 سال غیر معمولی رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اچھے دن آ رہے ہیں، جمہوریت غالب آئے گی، آپ سب کی بدولت ہم نے ترقی کے بہترین 4 برس گزارے، ہمارے فیصلے آنے والی دہائیوں کے لیے ہماری قوم اور دنیا کی قسمت کا تعین کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے پہلی سیاہ فام خاتون کو امریکہ کی سپریم کورٹ میں لا کر وعدہ پورا کیا، کملاہیریس کو منتخب کرنا میرے پورے کیریئر کا بہترین فیصلہ ہے، کملاہیریس جلد امریکہ کی صدر بنیں گی۔ جو بائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ غلط کہتے ہیں کہ امریکہ ہار رہا ہے، امریکہ نہیں ٹرمپ ہار رہے ہیں، وہ 4 سال سے وعدے کرتے رہے لیکن انہوں نے کیا کچھ نہیں۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ ’انفلیکشن پوائنٹ‘ پر ہے، اس الیکشن کا فیصلہ دنیا کی تقدیر کا تعین کرے گا، ہم اہم موڑ پر ہیں یہ فیصلے دہائیوں تک قوم اور دنیا کی تقدیر کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہے ہیں، میں نے غزہ جنگ کے لیے امن کا معاہدہ لکھا، جو مظاہرین غزہ جنگ کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، ان کا پاس ایک نقطہ نظر ہے، غزہ جنگ میں دونوں طرف بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ جمہوریت غالب آگئی، جمہوریت نے ڈیلیور کیا اور اب جمہوریت کو بچانا ہو گا، امریکہ کی معیشت کو دنیا کی مضبوط ترین معیشت بنایا، میں نے 50 سال تک آپ کو اپنی بہترین خدمات دیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ آپ میں سے بہت سے لوگوں کی طرح میں نے بھی اپنی قوم پر اپنا دل اور جان قربان کیا ہے، سینیٹ میں ہونے کے لیے جوان ہوں کیونکہ ابھی 30 سال کا نہیں ہوں اور صدر بننے کے لیے بہت بوڑھا ہوں، مجھے اْمید ہے کہ آپ جانتے ہوں گے میں آپ سب کا کتنا شکر گزار ہوں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے 2020ء میں جمہوریت کو بچایا اور 2024ء میں بھی جمہوریت کو بچانا ہے، امریکہ امکانات کی سر زمین ہے اور اس کو ایسے ہی رہنا چاہیے۔