روس یوکرین کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کاسبب بنا

,

   

جاری بحران ہندوستان کے لئے بھی کافی اہمیت حامل ہے کیونکہ ہندوستان میں بھی خام تیل کا انحصار درآمد پر ہی ہے۔
نئی دہلی۔روس او ریوکرین کے دوران کشیدگی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اچھال کا سبب بن رہا ہے۔

چہارشنبہ کے روز برینٹ انڈیکس کے خام تیل کی قیمت 94-95ڈالر فی بیرل رہے جو اب تک کے سالوں میں سب سے اونچائی پر ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کی درآمد میں روس کا شمار ہے اور کسی بھی مغربی پابندیوں کے خلاف عالمی سربراہی میں رخنہ کا سبب بنے گا۔

جاری بحران ہندوستان کے لئے بھی کافی اہمیت حامل ہے کیونکہ ہندوستان میں بھی خام تیل کا انحصار درآمد پر ہی ہے۔خام تیل کی قیمت میں اضافہ گھریلو قیمتوں میں بھی اضافہ کرسکتا ہے‘ افراط زر میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔

ائی سی ائی سی ائی سکیورٹیز کے ماہرین کا کہنا ہے مغرب اور روس کے درمیان کشیدگی کا انحصار خام تیل کی قیمتوں پر ہے جو مغربی یوکرین میں روس کی جانب سے علاقے کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کے لئے روس کے دستوں کی تعیناتی کے احکامات کے سبب اضافہ کردیاہے۔

موڈی کے سرمایہ کار خدمات کے ایک نوٹ میں اس کے ایم ڈی مائیکل ٹیلر نے کہاکہ”کشیدگی کی صورتحال میں عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ممکن ہے‘ ایشیاء علاقوں میں اس سے متعلق چند ایک برآمد کنندگان کے لئے یہ مثبت ہوگا اور اسی کے ساتھ نٹ انرجی درآمد کنندگان کے لئے یہ منفی ہوگا“۔