رہائش کیلئے موزوں شہروں میں حیدرآباد شامل نہیں

   


حیدرآباد۔/10جنوری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد یوں تو ترقی کے معاملہ میں ملک کے دیگر بڑے شہروں پر سبقت حاصل کرچکا ہے لیکن معیارِ زندگی اور رہائش کے معاملہ میں حیدرآباد پیچھے رہ گیا۔ مرکزی وزارت امکنہ اور شہری امور کی جانب سے ملک بھر میں سروے کا اہتمام کیا گیا جس میں عوام سے رہائش اور سہولتوں کے اعتبار سے بہتر شہروں کا انتخاب کیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر حیدرآباد کو جو انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز کی حیثیت سے دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتا ہے اسے 19 واں مقام حاصل ہوا۔ شہروں کے معیارِ زندگی پر عوامی رائے حاصل کرتے ہوئے ایز آف لیونگ انڈیکس تیار کیا گیا۔ سروے میں حیرت انگیز طور پر تلنگانہ کے ورنگل اور کریم نگر شہر حیدرآباد سے آگے رہے۔ تلنگانہ میں ورنگل اور کریم نگر کو علی الترتیب پہلا اور دوسرا رینک حاصل ہوا جبکہ حیدرآباد تیسرے نمبر پر رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ سروے کے بارے میں شہریان حیدرآباد میں شعور کی کمی کے نتیجہ میں حیدرآباد پیچھے رہ گیا۔ سروے میں حیدرآباد سے صرف 24013 افراد نے حصہ لیا جبکہ ورنگل اور کریم نگر سے علی الترتیب 96000 اور 79000 افراد نے حصہ لیتے ہوئے اپنے شہروں میں رہائشی سہولتوں کی تائید کی۔ حکومت کی جانب سے اگرچہ سروے کی تفصیلات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی لیکن شہریوں کی عدم دلچسپی نے حیدرآباد کو خود ریاست کے دو شہروں سے پیچھے کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رہائشی بہتر سہولتوں کے اعتبار سے ملک بھر میں جن ٹاپ 10 شہروں کا انتخاب کیا گیا ان میں حیدرآباد اور تلنگانہ کا کوئی بھی شہر شامل نہیں ہے۔ مہاراشٹرا کا تھانے شہر کو ملک بھر میں پہلا مقام حاصل ہوا جبکہ ہندوستان کے آئی ٹی ھب کے طور پر اپنی شناخت رکھنے والے بنگلور کو دوسرا مقام ملا۔ فہرست میں آندھرا پردیش کے تین شہر شامل ہیں جو گنٹور، وجئے واڑہ اور وشاکھاپٹنم ہیں۔ ممبئی جو ملک کا معاشی دارالحکومت کہا جاتا ہے اسے ساتواں مقام حاصل ہوا۔ مرکزی وزارت شہری امور کے سروے میں رہائش کیلئے بہتر جن ٹاپ 10 شہروں کا سروے کے مطابق انتخاب عمل میں آیا ان میں تھانے، بنگلور، بھوپال، چندواڑ، میرا، گنٹور، نوی ممبئی، وجئے واڑہ، وشاکھاپٹنم اور کلیان شامل ہیں۔ر