ریاستی بجٹ میں انتخابی وعدوں کی تکمیل پر توجہ دی جائے

   

کے سی آر کو ریونت ریڈی کا مکتوب، اقلیتوں اور دلتوں سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل
حیدرآباد 3 فروری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو بجٹ میں اہم شعبہ جات کے لئے فنڈس کے مسئلہ پر مکتوب روانہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ 2018 ء اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئی وعدے کئے گئے۔ کسانوں، بیروزگار نوجوانوں، بی سی طبقات، دلتوں اور اقلیتوں سے کئی وعدے کئے گئے۔ برسر اقتدار آنے کے بعد وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے فراموش کردیا گیا۔ 4 سالانہ بجٹ گزر گئے لیکن وعدوں سے متعلق اسکیمات کے لئے کوئی بجٹ مختص نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاست کا ہر بجٹ تقریباً 2 لاکھ کروڑ پر مشتمل ہے۔ لیکن انتخابی وعدوں کے لئے فنڈس مختص نہیں کئے گئے۔ آئندہ 10 ماہ میں حکومت کی میعاد مکمل ہوجائے گی لہذا 6 فروری کو پیش ہونے والے ریاستی بجٹ میں انتخابی وعدوں کی تکمیل کے اقدامات کئے جائیں۔ اُنھوں نے زرعی شعبہ، دلت بندھو، پالمور رنگاریڈی پراجکٹ ڈبل بیڈ روم مکانات کے لئے اضافی بجٹ کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اراضی رکھنے والے غریبوں کو مکان کی تعمیرکے لئے 3 لاکھ روپئے کی فراہمی، بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3016 روپئے بیروزگاری الاؤنس پر عمل آوری کا آج تک آغاز نہیں ہوا جبکہ تلنگانہ میں 26 لاکھ سے زائد تعلیم یافتہ بیروزگار ہیں۔ اُنھوں نے فیس ریمبرسمنٹ اسکیم روک دیئے جانے کی مذمت کی اور کہاکہ گزشتہ 3 برسوں میں 5 ہزار کروڑ کی اجرائی باقی ہے جس کے نتیجہ میں 18 لاکھ طلبہ مسائل کا شکار ہیں۔ ریونت ریڈی نے زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی کی سربراہی کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیا اور کہاکہ زرعی شعبہ کو 10 گھنٹے بھی برقی نہیں مل رہی ہے۔ ر

اُنھوں نے چیف منسٹر سے کہاکہ الیکشن سے قبل آخری بجٹ میں انتخابی وعدوں کی تکمیل پر توجہ دی جائے۔ ر