آر ایس ایس کو بھی تشویش لاحق ۔ اضلاع میں صورتحال پارٹی کی توقعات کے برعکس
حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز) بی جے پی کی ریاستی یونٹ کی کارکردگی سے قومی قیادت اور آر ایس ایس مطمئن نہیں ہیں اور گذشتہ 8 برسوں سے قومی قیادت نے منتری سرینواس کو تلنگانہ کا انچارج آرگنائزنگ سیکریٹری کے عہدہ پر نامزد رکھا تھا اور عدم کارکردگی اور پارٹی قائدین کی ناراضگی اور اتفاق رائے نہ ہونے سے انہیں پنجاب روانہ کردیا گیا ۔ تلنگانہ قائدین نے گذشتہ 4برسوں میں متعدد مرتبہ آرگنائزنگ سیکریٹری منتری سرینواس کی اعلیٰ قیادت اور آر ایس ایس سے شکایت کی تھی لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور اب جبکہ شہر میں پارٹی قومی عاملہ کا اجلاس اور وزیر اعظم نریندر مودی کا جلسہ منعقد ہوا تو اس کے بعد پارٹی نے تلنگانہ میں پارٹی کو فروغ نہ ملنے کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے منتری سرینواس کو پنجاب روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تلنگانہ میں بی جے پی کی کارکردگی اور استحکام میں مختلف سروے رپورٹس کے مطابق بی جے پی کو کوئی مستحکم موقف حاصل نہیں ہورہا ہے بلکہ حکومت کی جانب سے بی جے پی کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کو اضلاع میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے بی جے پی نے منتری سرینواس کو پنجاب منتقل کردیا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ آر ایس ایس سے مشاورت کے بعد ان کی جگہ کسی اور کو تلنگانہ امور کی نگرانی کیلئے نامزد کیا جائے گا۔ریاست میں بی جے پی کی مقبولیت کے متعلق خود بی جے پی اور آر ایس ایس قائدین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ گذشتہ 8برسوں میں تلنگانہ میں بی جے پی نے جو کوشش کی اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں جبکہ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریونت ریڈی کو پردیش کانگریس کی صدارت دیئے جانے کے بعد کانگریس کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور پارٹی اپنے بنیادی سطح کے کارکنوں کو متحرک کرنے اور انہیں پارٹی سرگرمیوں میں حصہ لینے آمادہ کرنے میں کامیاب ہونے لگی ہے اور بی جے پی داخلی اختلافات کا شکار ہورہی ہے۔م