رعیتو ڈسکام کے نام پر مفت بجلی ختم کرنے کی سازش ، نلگنڈہ میں کے کویتا کا احتجاجی جلسہ عام
نلگنڈہ۔11۔ جون(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت کسان مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور ’’رعیتو ڈسکام‘‘ کے نام پور کسانوں کو فراہم کی جانے والی مفت بجلی ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور خبردار کیا کہ اگر کسانوں کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔یہ بات تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے بتائی۔ اْنہوں نے آج نلگنڈہ میں کسانوں کے مسائل پر منعقدہ ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد محکمہ زراعت کا ایک بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا، جس کے نتیجے میں کسانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسان بھروسہ اور قرض معافی جیسے اہم وعدوں کو فراموش کر چکی ہے، جس سے کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔کویتا نے کہا کہ جس طرح سرکاری اسکولوں کی تعداد کم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اسی طرح اب کسانوں کے حقوق پر بھی ضرب لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ’’رعیتوڈسکام‘‘ منصوبے کے ذریعے کسانوں کیلئے مفت بجلی کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ نلگنڈہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر بڑے پیمانے پر اسائنڈ زمینیں خرید رہے ہیں اور انتخابات سے قبل ان زمینوں کو قانونی حقوق فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔کویتا نے کہا کہ نلگنڈہ ضلع میں مناسب آبی ذخائر نہ ہونے کے باعث کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں لیکن حکومت اس مسئلے کے حل کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کر رہی۔ انہوں نے بتایا کہ فصل تیار ہونے کے باوجود کسانوں کو سرمایہ کاری امداد فراہم نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے وہ قرض لینے اور اپنی جمع پونجی گروی رکھنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ دھان کی خریداری کے عمل میں بھی کسانوں پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور فی کنٹل وزن میں کٹوتی کے ذریعے انہیں مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔کویتا نے کہا کہ جب تک کسانوں کے مسائل پر وسیع پیمانے پر عوامی تحریک نہیں چلائی جائے گی حکومت حرکت میں نہیں آئے گی۔