فنڈز کی عدم اجرائی سے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی ٹھپ ، میناریٹی ڈیکلریشن نظر انداز
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ریاستی سکریٹری سابق صدر نشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحاق نے حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم اجرائی پر محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی تعطل کا شکار ہوجانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی کابینہ میں فوری مسلم نمائندے کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ محمد امتیاز اسحاق نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاستی کابینہ میں 17 ماہ سے مسلم نمائندگی نہیں ہے ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر نے کابینہ میں مسلم نمائندگی کو اولین ترجیح دی تھی ۔ بی آر ایس کا دور حکومت اقلیتوں کے لیے سنہرے دور تھا جہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا گیا ۔ ریونت ریڈی کے 17 ماہی دور حکومت میں ریاست کے مختلف مقامات پر مسلمانوں پر 20 سے زیادہ حملے ہوئے ہیں ۔ کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں جھوٹے وعدوں کے ذریعہ اقلیتوں کو ہتھیلی میں جنت دکھائی جب وعدوں پر عمل کرنے کا وقت آیا تو ریاست کا مالی موقف کمزور ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے ۔ میناریٹی ڈیکلریشن کا کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ اقلیتی بجٹ 5 ہزار کروڑ کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ ریونت ریڈی حکومت میں دو مرتبہ مکمل بجٹ پیش کیا گیا مگر 5 ہزار کروڑ روپئے اقلیتی بجٹ کے لیے مختص نہیں کئے گئے ۔ جتنا بھی اقلیتی بجٹ منظور کیا جارہا ہے ۔ اس میں 40 فیصد بجٹ بھی جاری نہیں کیا جارہا ہے ۔ فنڈز کی عدم اجرائی سے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ، وقف بورڈ ، اردو اکیڈیمی جیسے اداروں کی کارکردگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔ عازمین حج کے قافلے کو وداع کرنے کے لیے چیف منسٹر ریونت ریڈی حج ہاوز پہونچے تو مسلمان امید کررہے تھے کہ چیف منسٹر کوئی بڑا اعلان کریں گے مگر مسلمانوں کو مایوسی ہوئی ہے ۔ ٹمریز میں طلبہ کی تعداد گھٹ رہی ہے ۔ کانگریس حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے جب سے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔۔ 2