ریاست بھر میں 5 لاکھ کورونا ٹسٹ کرنے حکومت کی منصوبہ بندی

,

   

جنوبی کوریا سے کٹس کا حصول، اضلاع میں بھی ٹسٹ کئے جائیں گے
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا ٹسٹ کی تعداد میں کمی کے سلسلہ میں حکومت کو اپوزیشن اور عوام کی تنقیدوں کا سامنا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ اور ریاستی گورنر نے بھی ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کی سفارش کی تھی۔ حکومت نے مسلسل تنقیدوں سے بچنے کیلئے ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں تقریباً 5 لاکھ کورونا ٹسٹ کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔اگرچہ حکومت نے ٹسٹوں کی تکمیل کیلئے کسی مدت کا تعین نہیں کیا لیکن اس کاانحصار کٹس کی آمد پر ہے جس کا آرڈر ساؤتھ کوریا کی کمپنی کو دیا گیا ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ میڈیکل سرویسس اینڈ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے یہ آرڈر کیا ہے۔ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کے چندر شیکھر ریڈی نے بتایا کہ ساؤتھ کوریا کی ایک کمپنی سے ہمیں کٹس حاصل ہورہے ہیں اور انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ نے اس کمپنی کو منظوری دی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کٹس کی آمد کے ساتھ ہی انہیں 30 اضلاع کو روانہ کیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہاسپٹلس اور پرائمری ہیلت سنٹرس میں یہ ٹسٹ کئے جائیں گے۔ عہدیداروں نے ہر پرائمری ہیلت سنٹر میں کم از کم 100 ٹسٹ کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹسٹ کے سلسلہ میں عوام سے بہتر ردعمل حاصل ہوا ہے اور یہ کٹس صرف ایک گھنٹے میں نتیجہ دیں گے جبکہ
RT-PCR
ٹسٹ کا نتیجہ آنے کیلئے 24 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ٹسٹوں کے سلسلہ میں تلنگانہ ملک کی دیگر ریاستوں سے کافی پیچھے ہے۔ نیتی آیوگ کے مطابق تلنگانہ میں 10 لاکھ افراد میں صرف 2627 افراد کا ٹسٹ کیا گیا۔ آندھرا پردیش میں ہر 10 لاکھ میں 18597 افراد کا ٹسٹ کیا گیا اور ٹسٹوں کے اعتبار سے آندھرا پردیش ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلے مرحلہ میں جو کٹس حاصل کئے گئے تھے انہیں گریٹر حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل اضلاع میں استعمال کیا جارہا ہے جہاں کورونا کا پھیلاؤ عروج پر ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پرائمری ہیلت سنٹرس میں RT-PCR ٹسٹوں میں کمی آئی ہے جہاں کورونا کی جانچ کیلئے دوسرے ٹسٹ کئے جارہے ہیں۔