ریاست میں برقی بحران کا آغاز ‘ عوام کیلئے مشکلات

   

برقی کٹوتی پر تعاون کرنے کی پربھاکر راؤ نے عوام اور کسانوں سے اپیل کی
حیدرآباد 20 اگسٹ ( سیاست نیو ز ) تلنگانہ میں برقی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دیہی علاقوں اور زرعی اغراض کیلئے استعمال ہونے والی برقی میں کٹوتی شروع ہوگئی ہے۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ پر برقی کی خریدوفروخت پر امتناع عائد کیا ہے جس کے بعد ریاست میں برقی کی سربراہی میں خلل پڑنا شروع ہوگیا ہے اور دیہی علاقوں میں اس کے اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ٹرانسکو کے سی ایم ڈی پربھاکر راؤ نے برقی بحران پیدا ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مرکز تلنگانہ کے ساتھ سیاسی انتقام لے رہی ہے لیکن محکمہ برقی کی جانب سے برقی کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو تین دن برقی کی سربراہی میں تھوڑی دشواریاں ہوں گی۔ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے میں وہ برقی کمپنیاں اور حکومت سے تعاون کریں۔ پربھاکر راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے قبل از نوٹس دیتے ہوئے بغیر ایکسچینج سے برقی خریدنے پر پابندیاں عائد کردی ہے۔ تلنگانہ نے 1360 کروڑ روپئے کے بقایاجات ادا کردیئے ہیں۔ باوجود اس کے برقی خریدی پر جو تحدیدات عائد کردیئے گئے ہیں وہ تکلیف دہ ہیں۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کا جمعہ کو چیف منسٹر کے سی آر نے ریاستی وزیر برقی جگدیش ریڈی کے بشمول اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس طلب کیا ہے۔ چیف منسٹر نے برقی کی سربراہی کو یقینی بنانے اور عوام کو مسائل سے محفوظ رکھنے ضروری اقدامات کی ہدایت دی ۔ ہائیڈرولوجیکل پاور کی بھاری مقدار میں پیداوار کی جارہی ہے۔ بلاوقفہ برقی کی سربراہی کی کوشش کی جارہی ہے۔ جمعہ کو 12,214 میگاواٹ برقی کا ڈیمانڈ تھا باوجود اس کے برقی کٹوتی نہیں کی گئی۔ بہت جلد مسئلہ حل ہوگا۔ تب تک برقی کٹوتی ہونے پر عوام اور کسان تعاون کریں۔ن