ریاست میں پی جی میڈیکل کالجس میں داخلوں کے عمل پر روک

   

مقامی مسئلہ پر طلبہ عدالت سے رجوع، عدالتی فیصلے کا انتظار، ہیلت یونیورسٹی کا تاثر
حیدرآباد ۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) ریاست میں پی جی میڈیکل کالجس میں داخلوں کا عمل رک گیا ہے۔ مقامی مسئلہ پر طلبہ عدالت سے رجوع ہونے پر کونسلنگ کا عمل تھم گیا ہے۔ کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی نے عدالت کے قطعی فیصلے کے بعد اس عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب تلنگانہ کے طلبہ دیگر ریاستوں میں ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی ہے۔ وہ تلنگانہ کے پی جی داخلوں میں غیرمقامی قرار دیئے جارہے ہیں۔ کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ پی جی میڈیکل نوٹیفکیشن کے مطابق ایک مقامی امیدوار کو مسلسل چار سال تک تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے۔ یونیورسٹی نے نوٹیفکیشن میں وضاحت کی ہیکہ وجئے واڑہ کے سدھارتھ میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے ریاستی طلبہ بھی مقامی ہوں گے۔ اس پالیسی سے تلنگانہ کے طلبہ کے ساتھ شدید ناانصافی ہوگی۔ ایسے طلبہ تلنگانہ میں غیرمقامی کہلائیں گے۔ نیٹ امتحان میں ٹاپ رینکرس حاصل کرنے والے طلبہ کی اکثریت قومی سطح کے تعلیمی اداروں میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو پی جی داخلوں میں ناانصافی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے جس کے تناظر میں وہ عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ اس سال پی جی میڈیکل کالج کے داخلوں کا عمل تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ بالآخر کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی نے گذشتہ ماہ سال 2024-25ء کنوینر کوٹہ کے تحت ایم ڈی، ایم ایس، پی جی ڈپلومہ میڈیکل کورسیس میں داخلوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ 31 اکٹوبر سے 7 نومبر تک آن لائن میں درخواستیں وصول کی گئی۔ کونسلنگ کے آغاز سے قبل مقامی مسئلہ پر طلبہ عدالت سے رجوع ہوئے ہیلت یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایا کہ عدالت میں مسئلہ کی یکسوئی تک داخلوں کا عمل آگے نہیں بڑھے گا۔2