کئی کالجس کے برخواست ہونے کے اندیشے ۔ طلبا میں شعور بیدار کرنے اقدامات ضروری
حیدرآباد۔14۔جون(سیاست نیوز) ریاست میں پوسٹ گریجویشن کورسس کے داخلوں میں کمی کا رجحان تشویشناک حد تک گراوٹ کا شکار ہونے لگا ہے جس کے سبب خانگی کالجس میں منظورہ پی جی نشستوں کی برخواستگی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے پی جی کورسس میں داخلوں کیلئے CPGET کے اعلان کے باوجود طلبہ کی داخلوں کے متعلق عدم توجہی پی جی کورسس کی برخواستگی کا سبب بن سکتی ہے ۔تلنگانہ میں CPGET کے اعلامیہ کی اجرائی کے باوجود درخواستوں کی کم وصولی پر حکام کا کہناہے اگر نشستیں پر نہیں ہوتی ہیں تو یوجی سی قوانین کے مطابق کورس بند کرنے پڑیں گے اسی لئے طلبہ میں شعور اجاگر کرکے ان کورسس میں داخلہ کیلئے آمادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مجموعی اعتبار سے خانگی کالجس میں منظورہ کورسس میں کم داخلوں کی شکایات مل رہی ہیں جبکہ یونیورسٹی کیمپس کالجس میں 90 فیصد تک داخلے ہور ہے ہیں لیکن یونیورسٹی میں موجود اردو‘ فارسی‘ عربی اور اسلامک اسٹڈیز کے شعبوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہے جہاں کم تعداد میں طلبہ داخلہ لے رہے ہیں جو کہ یونیورسٹی کالجس میں بھی اردو‘ فارسی ‘ عربی اور اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ جات خطرہ میں ہیں ۔ ان شعبوں کو محفوظ رکھنے اردو ‘ فارسی اور عربی زبان کے علاوہ اسلامک اسٹڈیز کے شعبوں میں بھی زیادہ داخلہ کی ضرورت ہے۔سال 2020-21 کے داخلوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو تلنگانہ کے خانگی پی جی کالجس مجموعی اعتبار سے 22ہزار 763 داخلوں کی گنجائش ہے اورتلنگانہ میں 320 پی جی کالجس ہیں جہاں صرف 10 ہزار طلبہ نے داخلہ لیاہے۔ سال گذشتہ ہوئے CPGET میں 63.609 فیصد طلبہ پوسٹ گریجویشن میں داخلہ کے اہل قرار پائے تھے۔ جن طلبہ نے ایس ایس سی اور انٹرمیڈیٹ میں دوسری زبان کی حیثیت سے اردو زبان کا انتخاب کیا ہے وہ ڈگری میں اردو بہ حیثیت دوسری زبان رکھتے ہیں وہ شعبہ اردو‘ فارسی اور عربی کے کسی بھی کورس میں داخلہ کے اہل ہیں اسی لئے طلبہ کو اردو زبان اور شعبوں کی بقاء کیلئے پی جی کورس میں داخلہ لینے کے علاوہ دیگر پی جی کورسس میں داخلہ سے متعلق کوشش کرنی چاہئے ۔م