ریزرویشن ہٹاؤ آندولن

   

ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہے
ہاں غور سے سننا یہ صدی بول رہی ہے
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نیٹ پیپر لیک مسئلہ پر کئے گئے احتجاج کے بعد کئی گوشوں سے اس احتجاج کو بدنام اور رسواء کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ اس احتجاج کی فنڈنگ پر سوال کئے گئے تھے ۔ یہ دعوی کیا گیا تھا کہ چین اور پاکستان سے فنڈنگ ہوئی ہے ۔ کسی نے احتجاجیوں کو دہشت گردوں کی بی ٹیم قرار دیا تھا ۔ کسی نے انہیں وائرس قرار دیا تھا ۔ کسی نے دعوی کیا تھا کہ یہاں ملک مخالف نعرے لگے ہیں۔ کہیں سے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ مخالف مذہب نعرے لگائے گئے ہیں۔ غرض یہ کہ اس احتجاج کو توڑنے کی ہرممکن کوشش کی گئی تھی ۔ ہندو ۔ مسلم کا تفرقہ پیدا کرنے کی بھی سازشیں ہوئی تھیں اور ساری کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔ طلباء برادری نے کسی بھی استحصال کا شکار ہوئے بغیر اپنے مطالبہ پر فوکس کیا تھا اور ان کا احتجاج دھرمیندر پردھان کے استعفی کی صورت میں کامیاب رہا تھا ۔ اس کامیابی کے بعد سے بھی کوششیں ہو رہی تھیں کہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جائے ۔ ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں اورسوشیل میڈیا پر ریلس بنانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ ساری کوششیں دھری کی دھری رہ گئی تھیں تاہم اب ایک نیا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ نوجوانوں اور طلباء کو جب مذہب کے نام پر بانٹنے میں کامیابی نہیں ملی تو ذات پات کے نام پر بانٹنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں اور اس ملک میں تحفظات کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ سی جے پی کے احتجاج کے طرز پر دہلی میں ریزرویشن ہٹاؤ آندولن شروع کردیا گیا ہے ۔ پولیس کی جانب سے اس کو اجازت بھی دیدی گئی ہے اور اس کیلئے بھی سی جے پی کی طرح ہی سے آن لائین مہم چلائی گئی تھی اور سوشیل میڈیا پر ایک پلیٹ فارم بھی بنا کر ارکان بنائے گئے تھے ۔ ملک میں تحفظات کو ختم کرنا آر ایس ایس کی سوچ ہے اور سنگھ نے بعض مواقع پر اس کا اظہار بھی کیا تھا ۔ 2015 کے بہار اسمبلی انتخابات کے دوران سنگھ نے تحفظات پر نظرثانی کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔ تاہم اس بیان کے بعد بی جے پی کو بہار میں شکست کا سامنا کرناپڑا تھا ۔
جس طرح سے دعوی کیا جاتا ہے کہ بی جے پی اعلی ذات والوں کی پارٹی ہے تو یہ اندیشے تقویت پانے لگے ہیں کہ شائد بی جے پی کی ایماء پر ہی ریزرویشن ہٹاؤ آندولن شروع کیا گیا ہے ۔ تحفظات کی جہاں تک بات ہے تو یہ ہندوستان کا ایک انتہائی اہم ‘ حساس اور سنگین مسئلہ ہے اور اس پر حکومتوں کی جانب سے کوئی بھی فیصلہ اتنی آسانی سے نہیں لیا جاسکتا اور نہ ہی اس طرح کے مطالبات کی سماج میں کوئی گنجائش ہوسکتی ہے ۔ ملک میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کو جو تحفظات حاصل ہیں ان کی ایک دستوری گنجائش بھی موجود ہے اور اس کی ایک حد کا بھی تعین کردیا گیا ہے ۔ اس انتہائی سنگین اور حساس نوعیت کے مسئلہ پر سیاست کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ یہ مسئلہ کسی ایک طبقہ یا کسی حکومت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ ملک کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے کروڑوں باشندوں سے تعلق رکھتا ہے اور تحفظات کو برخواست کرنا کسی کیلئے بھی آسان نہیں ہوسکتا ۔ چونکہ سی جے پی کے احتجاج میں اعلی ذات اور پسماندہ طبقات سبھی سے تعلق رکھنے والے طلباء نے شرکت کی تھی اور ان میں کسی طرح کی تفریق پیدا نہیں کی جاسکی تھی تو شائد اسی لئے اب تحفظات کے مسئلہ پر اختلاف رائے پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ریزرویشن ہٹاؤ آندولن اسی کوشش کا ایک حصہ ہوسکتا ہے ۔
مرکزی حکومت ہو یا ملک کی دوسری تمام سیاسی جماعتیں ہوں یا طلباء تنظیمیں ہوں سبھی کو اس ملک کے حساس مسائل کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے سماجی تانے بانے متاثر کرنے والے کسی بھی پہلو کو اجاگر نہیں کیا جانا چاہئے ۔ سماج میں دوریاں اور نفرت پیدا کرنے کی بجائے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے قریب لاتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کی فضاء کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ سیاسی مقصد براری کیلئے حساس نوعیت کے مسائل کا استحصال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہئے ۔ کسی کو بھی اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔