پرانے شہر میں ملٹی لیول پارکنگ ، ریل اوور برج اور میٹرو ریل کے کام ندارد ، حکومت رائے دہندوں کو راغب کرنے کوشاں
حیدرآباد۔9۔جنوری(سیاست نیوز) چارمینارکے قریب تشکیل تلنگانہ سے قبل 2 ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس کے سنگ بنیاد‘ پرانے شہر میں میٹرو ریل کے آغاز ‘ فلک نما ریل اوور برج کے ایک حصہ کی تعمیر کے عدم آغاز کے بعد پرانے شہر کے عوام کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے ایک اور مرتبہ ’’کان خوش کرنے‘‘ کی تیاری کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ حکومت ملک پیٹ ریس کورس کی اراضی پر جلد ہی آئی ٹی پارک کا سنگ بنیاد رکھے گی۔ انتخابات کے سال کے ساتھ ہی حکومت کو پرانے شہر کے مسائل اور پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور ان کی تزئین نو سے اچانک دلچسپی پیدا ہونے لگی ہے اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران بادشاہی عاشور خانہ کی تزئین نو اور عظمت رفتہ کی بحالی کے اقدامات کے علاوہ خورشید جاہ کی دیوڑھی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اب تک پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں میں پیشرفت کے متعلق مکمل خاموشی اختیار کی جار ہی ہے علاوہ ازیں ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس خلوت مبارک کے علاوہ چارمینار بس اسٹینڈ کی جگہ پارکنگ کامپلکس کا سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا جس پر عمل آوری نہیں ہوئی ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تحریک تلنگانہ کے دوران مسلسل چنچل گوڑہ جیل کی پرانے شہر سے منتقلی اور اس کی جگہ کے جی تا پی جی تعلیمی کیمپس کے قیام کا اعلان کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی ان کی پارٹی نے اقتدار حاصل کرنے کی صورت میں ریس کورس کی منتقلی اور اس علاقہ کو انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز کے طور پر فروغ دینے کا اعلان کرتی رہی ہے ۔ اب جبکہ انتخابات کا سال شروع ہوچکا ہے تو پھر ایک مرتبہ یہ کہا جا رہاہے کہ 10.35 ایکڑ پر محیط اراضی پر حکومت 1035 کروڑ کی لاگت سے آئی ٹی کے مرکز کا سنگ بنیاد رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ملک پیٹ میں آئی ٹی مرکز کے قیام کے لئے 1035کروڑ کی لاگت سے تعمیراتی کاموں کے آغاز کا منصوبہ پیش کیا گیا لیکن پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کیلئے ریاستی بجٹ میں 500کروڑ روپئے مختص کئے جانے کے باوجود کاموں کا آغاز نہیں ہوا ہے۔منصوبہ کے مطابق تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تعاون و اشتراک کے ساتھ ملک پیٹ میں 16منزلہ عمارت کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور اس منصوبہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں جلد ہی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے اس منصوبہ پر عمل آوری کے لئے جلد ہی ٹنڈر طلب کئے جانے کا امکان ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق ریس کورس کی اراضی پر جو پراجکٹ تعمیر کیا جائے گا اس میں 50 فیصد انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیاں ہوں گی جبکہ مابقی 50 فیصد انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مربوط کمپنیوں کو جگہ فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کے اس منصوبہ کے انکشاف اور سیاسی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہونے لگا ہے کہ ریاستی حکومت رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہے۔ پرانے شہر کی ترقی کے معاملہ میں گذشتہ 7 سالوں کے دوران جو اعلانات کئے گئے ہیں ان میں نصف اعلانات پر بھی عمل آوری ممکن نہیں ہوپائی ہے بلکہ پرانے شہر کی ترقی کے لئے کئے جانے والے اعلانات محض اعلانات کی حد تک محدود ہیں اور حکومت اور مختلف محکمہ جات کے عہدیدار پرانے شہر کو مسلسل نظرانداز کرنے لگے ہیں۔ برسوں تک پرانے شہر کو نظرانداز کرنے کے بعد اب اچانک 1032کروڑ کے پراجکٹ کا پرانے شہر کے لئے اعلان کیا جارہا ہے اور یہ تصور کیا جا رہاہے کہ پرانے شہر کے عوام حکومت کے ان اقدامات پر اعتماد کریں گے جبکہ 2014 میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل اور اس کے بعد جو وعدے کئے گئے تھے ان پر اب تک عمل آوری نہیں کی گئی ہے۔م