زراعت پر ’ یو ٹرن ‘ بی جے پی سے نمٹنے کیلئے کے سی آر کی نئی چال

   

کارپوریشنوں اور ایم ایل سی انتخابات کی فکر، حکومت کے موقف سے بی جے پی اُلجھن میں، ٹی آر ایس قائدین مطمئن

حیدرآباد۔ تلنگانہ کی سیاست میں ٹی آر ایس کے سربراہ اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے حامیوں میں چانکیہ کے نام سے مشہور ہیں اور وہ کب کیا سیاسی چال چل سکتے ہیں کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ دوباک میں شکست اور گریٹر حیدرآباد میں کمزور مظاہرہ کے بعد کے سی آر نے بظاہر مرکز کی بی جے پی حکومت سے ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کا پیام دیا ہے لیکن اُن کے قریبی حلقے اسے ٹی آر ایس کے چانکیہ کی ایک سیاسی چال سے تعبیر کررہے ہیں تاکہ تلنگانہ میں بی جے پی سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جاسکے۔ کے سی آر جو انتخابی نتائج اور پھر دورہ دہلی کے بعد سے اپنے فارم ہاوز میں سیاسی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف رہے حیدرآباد واپسی کے ساتھ ہی انہوں نے زرعی شعبہ کے بارے میں فیصلہ سے نہ صرف مخالفین بلکہ خود اپنی پارٹی کے قائدین کو حیرت میں ڈال دیا۔ مرکز کے زرعی قوانین کی کھل کر مخالفت کرنے کے بعد کے سی آر نے اچانک ’ یو ٹرن ‘ لیتے ہوئے مرکزی قوانین کے عین مطابق بعض فیصلے کئے جس میں سب سے اہم فیصلہ کسانوں کی پیداوار کی خریدی سے متعلق ہے۔ حکومت اب زرعی پیداوار کی خریدی نہیں کرے گی اور کسان ملک بھر میں جہاں چاہیں اسے فروخت کرسکتے ہیں۔ مرکز کے زرعی قوانین میں یہی بات شامل ہے کہ کسان حکومت کے بجائے خانگی اداروں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت پیداواری اشیاء پر اقل ترین امدادی قیمت کا تعین نہیں کرے گا۔ چیف منسٹر کے اچانک فیصلہ کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور کسانوں کی تنظیموں نے کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس نے تو احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کردیا۔ حکومت کی سطح پر یو ٹرن کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی تاہم چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک شاطر سیاستداں کی طرح کے سی آر نے شطرنج کے سیاسی کھیل میں اصل حریف بی جے پی کو مات دینے کیلئے یہ حربہ استعمال کیا ہے۔ چیف منسٹر نہیں چاہتے کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے قدم مضبوط ہوں اور ورنگل و کھمم کے بلدی انتخابات کے علاوہ کونسل کی 2 نشستوں کے مجوزہ انتخابات میں بی جے پی کو کوئی فائدہ ہو۔ بی جے پی کے جارحانہ موقف کو نرم کرنے کی اہم چال کے طور پر مرکزی قوانین کے مطابق ریاست میں بعض فیصلے کئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کے سی آر کی اس نئی چال سے خود بی جے پی بھی اُلجھن کا شکار ہے اور وہ یہ طئے نہیں کرپارہی ہے کہ کے سی آر حکومت کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا جائے۔ مرکزی قوانین کے حق میں فیصلہ کے بعد بی جے پی کیلئے کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنانا مضحکہ خیز ثابت ہوگا لہذا بی جے پی کی ریاستی قیادت نے اس مسئلہ کو نئی دہلی سے رجوع کردیا ہے۔ قومی قیادت زرعی شعبہ کے بارے میں کے سی آر حکومت کے فیصلہ کا جائزہ لینے کے بعد ہی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں ریاستی یونٹ کو آگاہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے انتہائی سوچ سمجھ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ سیاسی طور پر بی جے پی کو اُلجھن میں مبتلاء کردیں۔ مجوزہ بلدی انتخابات اور کونسل کے انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی سے روکنے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ کار نہیں ہوسکتا تھا۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع زرعی شعبہ سے متعلق حالیہ فیصلوں کو کسانوں کے مفاد میں قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کا فیصلہ مرکزی قوانین کے عین مطابق نہیں ہے بلکہ مرکزی قوانین سے یہ فیصلے یکسر مختلف ہیں۔ آئندہ بلدی اور کونسل کے انتخابات تک بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اُلجھن میں مبتلاء رکھنے کیلئے کے سی آر نے یہ نئی چال چلی ہے کیونکہ کارپوریشن اور ایم ایل سی انتخابات کے رائے دہندوں میں کسان شامل نہیں ہوتے لہذا ٹی آر ایس کو کوئی خاص نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ انتخابی مراحل کی تکمیل کے بعد چیف منسٹر دوبارہ کسانوں کی جانب توجہ مبذول کرتے ہوئے حالیہ فیصلوں کی وضاحت کریں گے۔