نیویارک: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سیلابوں اور خشک سالی کی شدت میں اضافہ اس بات کا ”تکلیف دہ اشارہ” ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں کرہ ارض کے آبی چکر کو مزید بے ترتیب اور غیر متوقع بنا سکتی ہیں۔عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ2023ء گزشتہ تین دہائیوں کا خشک ترین سال تھا، جب دریاؤں میں پانی کی مقدار میں غیرمعمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔دنیا بھر میں آبی ذرائع کی صورتحال پر ادارے کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران دنیا بھر کے دریاؤں میں پانی کی مقدار معمول سے کم رہی اور آبی ذخائر میں بھی بہت کم پانی پہنچا۔ اس طرح انسانی آبادیاں، زراعت اور ماحولیاتی نظام پانی کی قلت کا شکار رہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے میں گلیشیئروں کے حجم میں گزشتہ پانچ دہائیوں کے مقابلے میں غیرمعمولی کمی ریکارڈ کی گئی اور دنیا کے ہر خطے میں یہی صورتحال دیکھنے کو ملی۔برف پگھلنے کے نتیجہ میں 600 گیگا ٹن سے زیادہ پانی پیدا ہوا، جس کی بڑی مقدار سمندر اور کچھ دریاؤں کا حصہ بن گئی۔کہیں سیلاب کہیں خشک سالی، ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ڈبلیو ایم او کی سکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا کہ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات کا پتہ دیتی ہے۔ ماحولیاتی نظام، زندگیاں اور معیشتیں شدید بارش، سیلابوں اور خشک سالی کے ادوار کی صورت میں اس سے بری طرح نقصان اٹھا رہے ہیں۔