حیدرآباد۔29 جولائی(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ’حیڈرا‘ کمشنر معاملہ میں عدالت کے احکام پر سنجیدہ نوٹ لیتے ہوئے اب یہ تاثر دینا شروع کردیا ہے کہ کسی عہدیدار کے خلاف عدالت میں زیر دوراں تحقیر عدالت کی بناء پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس انیل کمار جوکنٹی تلنگانہ ہائی کورٹ نے جو احکام جاری کئے ہیں اس کے بعد سے حکومت مسٹر اے وی رنگاناتھ کا دفاع کر رہی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ حکومت تلنگانہ پیشرو حکومت کے دور میں چیف سیکریٹری کے عہدہ پر خدمات انجام دینے والے مسٹر سومیش کمار کے خلاف عدالت میں موجود تحقیر عدالت کے مقدمات کی تعداد پیش کی جانے لگی ہے۔ مسٹر اے وی رنگاناتھ کمشنر ’حیڈرا‘ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں 63 تحقیر عدالت کے مقدمات زیر دوراں ہونے کی اطلاعات کا جواب دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جار ہاہے کہ مسٹر سومیش کمار کے خلاف مجموعی طور پر 408 تحقیر عدالت کے مقدمات زیر دوراں تھے۔ تفصیلات کے مطابق سال 2016 میں ان پر 5 تحقیر عدالت کے مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ 2017 میں 29 مقدمات تحقیر عدالت کے درج کروائے گئے تھے ۔ اسی طرح سال 2018 میں 21‘ 2019 میں 30 ‘ 2020میں 59 ‘ 2021 میں 91‘ 2022 میں 159 اور2023 میں 14 تحقیر عدالت کے مقدمات درج کئے گئے تھے اس طرح انہوں نے 408تحقیر عدالت کے مقدمات دائر کئے گئے تھے۔3/k/b