کولکاتا: اپنی وائس چانسلری کے دوران تنازعات میں رہنے والے وشوبھارتی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ودیوت چکرورتی ایک بار پھر تنازعہ کے شکار ہوگئے ہیں ۔ان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے تین موبائل فون واپس کیے بغیر وشو بھارتی سے روانہ ہوگئے ہیں۔ وشوا بھارتی ذرائع نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں انتظامیہ نے ان کی گزشتہ ماہ کی تنخواہ سے رقم کاٹ لی ہے ۔وشو بھارتی ذرائع کے مطابق، ودیوت کو وائس چانسلر کے طور پر جوائن کرنے کے بعد یونیورسٹی نے تین فون استعمال کرنے کیلئے دیے تھے ۔ وائس چانسلر کے طور پر ودیوت کی میعاد گزشتہ سال 8 نومبر کو ختم ہو گیا ۔ قواعد کے مطابق،انہیںیونیورسٹی چھوڑنے سے قبل ان تینوں فونز کو وشو بھارتی کو واپس کرنا تھا۔ لیکن انہوںنے مبینہ طور پر وہ فون واپس نہیں کئے ۔ وہ فون لے کر چلے گئے ۔اس کی وجہ سے سابق وائس چانسلر کی تنخواہ سے مجموعی طور پر 45 ہزار روپے کاٹ لیے گئے ہیں۔ وشو بھارتی ذرائع کے مطابق ودیوت چکرورتی بطور وائس چانسلر تقریباً تین لاکھ روپے تنخواہ لیتے تھے ۔ چونکہ ان کی میعاد 8 نومبر کو ختم ہو رہی تھی، انہیں اس مہینے میں آٹھ دن کے کام کیلئے 49,000روپے تنخواہ ملنی تھی۔
بدیوت نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مدت ختم ہونے کے بعد تنخواہ کے بقایا جات کی بھی اپیل کی تھی۔ چونکہ انہوںنے وشو بھارتی کے موبائل واپس نہیں کیے تھے اس لئے انتظامیہ نے گزشتہ ماہ کی تنخواہ سے تینوں موبائلوں کی قیمت کے طور پر 45,000روپے کاٹ لیے ۔ ذرائع کے مطابق باقی چار ہزار روپے انہیں تنخواہ کے طور پر دیے گئے ہیں۔معاملہ سامنے آتے ہی سابق وائس چانسلر کے حوالے سے مختلف حلقوں میں چرچے شروع ہو گئے ہیں۔ وشو بھارتی کا ایک حلقہ ان کے خلاف ایک بار مورچہ کھول دیا ہے ۔ وشو بھارتی پروفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر سدیپتا بھٹاچاریہ نے کہاکہ ‘‘وائس چانسلر کے طور پر ان کے دور میں ان کی (ودیوت) کی تیزی ایک چور کی ماں کے بڑے منہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔’’ اس کے علاوہ، سدیپتا نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کی تعریف کی ہے ۔ دوسری طرف وشو بھارتی کے قائم مقام سکریٹری اشوک مہتو نے کہا کہ سابق وائس چانسلر کی حیثیت سے ودیوت کے واجبات کی وضاحت حکومتی قواعد کے مطابق کی گئی ہے ۔یواین آئی۔نور