سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس دوپہر کے بعد غائب ہورہے ہیں

   

گاندھی ہاسپٹل کے 25 ڈاکٹرس کو وجہ نمائی نوٹس کی اجرائی، طبی حلقوں میں موضوع بحث
حیدرآباد ۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) سرکاری ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس کی جانب سے وقت نہ دینے کے الزامات عائد ہورہے ہیں۔ دوپہر ایک بجے کے بعد چند ڈاکٹرس غائب ہوجارہے ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل کا تازہ واقعہ اس کا ثبوت ہے۔ ریاستی وزیرصحت دامودھر راج نرسمہا نے اچانک گاندھی ہاسپٹل کا دورہ کیا تو وہاں پتہ چلا کہ ہاسپٹل میں 25 ڈاکٹرس دستیاب نہیں ہیں جس پر وزیرصحت برہم ہوگئے اور ان ڈاکٹرس کو وجہ نمائی نوٹس دینے کی ہدایت دی جس پر عہدیداروں نے 25 ڈاکٹرس کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی۔ یہ بھی شکایت وصول ہوئی ہیکہ چند ڈاکٹرس 11 بجے کے بعد او پی میں بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ او پی کو جونیرس کے حوالے کردینے کی بڑے پیمانے پر الزامات عائد ہورہے ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل اور عثمانیہ ہاسپٹل میں خدمات انجام دینے والے 30 تا 35 فیصد ڈاکٹرس کی خانگی پریکٹس ہے یا ان کی اپنی کلینکس ہیں۔ نیلوفر، پیٹلابرج، سروجنی اور دیگر سرکاری ہاسپٹلس میں خدمات انجام دینے والے جونیر ڈاکٹرس پی جی ڈاکٹرس اور دیگر عملہ کیلئے بائیومیٹرک حاضری پر عمل کیا جارہا ہے۔ مختلف شعبہ جات کے سربراہان، پروفیسرس دیگر طبی عملہ کیلئے سپرنٹنڈنٹ کے پاس رکھے گئے رجسٹر میں دستخط کرنا ہوگا۔ چند لوگ دستخط کئے بغیر راست طور پر ڈپارٹمنٹس کو روانہ ہورہے ہیں بعد میں دستخط کررہے ہیں۔ نمس ہاسپٹل میں خانگی پریکٹس پر امتناع عائد کرنے کے بعد یہاں پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس مختلف وجوہات بتاتے ہوئے استعفیٰ دیکر خانگی ہاسپٹلس سے رجوع ہورہے ہیں۔ ماضی میں نمس ہاسپٹل کے نیورولوجی اور نیورو سرجری ڈپارٹمنٹ کی پوری میڈیکل ٹیم نمس چھوڑ کر فی الحال ایک بڑے رکاپوریٹ ہاسپٹل میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ نمس ہاسپٹل میں ان کے پاس علاج کرانے والے مریضوں کو اپنے پاس بلارہے ہیں۔ عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس کی بھی تقریبا یہی صورتحال ہے۔2