سرکاری محکمہ جات میں بی سی طبقات کی نمائندگی پر کمیشن نے رپورٹ طلب کی

   

9 تا 11 جون ذیلی طبقات کے مسئلہ پر عوامی سماعت، جی نرنجن کی صدارت میں بی سی کمیشن کا اجلاس
حیدرآباد 6 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ بی سی کمیشن نے بی سی طبقات کی فہرست سے 26 ذیلی طبقات کو حذف کرنے کے مسئلہ پر سہ روزہ عوامی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ بی سی کمیشن کا اجلاس صدرنشین جی نرنجن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ریاستی حکومت کے ملازمین کی تفصیلات کے حصول کا جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے مختلف محکمہ جات کے سکریٹریز کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جنھوں نے ابھی تک سرکاری ملازمین کی تفصیلات داخل نہیں کی ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں پسماندہ طبقات کی حصہ داری کے تعین کے لئے بی سی کمیشن نے سرکاری محکمہ جات سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ کمیشن نے 9 تا 11 جون ذیلی طبقات کو بی سی فہرست سے حذف کرنے کے مسئلہ پر عوامی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے اِس سلسلہ میں سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ریاستی حکومت سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ ذیلی طبقات سے متعلق اعداد و شمار کمیشن کو پیش کرے جس میں حقیقی آبادی اور اُن کی سماجی، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی تفصیلات درج ہوں۔ کمیشن نے نظام آباد ضلع کے تلارام پور گاؤں میں پسماندہ طبقات کے سماجی بائیکاٹ کے سلسلہ میں ضلع کلکٹر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لیا۔ کمیشن نے ضلع حکام کی جانب سے اِس معاملہ کی یکسوئی کے اقدامات کی ستائش کی۔ تلنگانہ بی سی کمیشن نے مرکزی حکومت سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ 40 بی سی ذیلی طبقات کو مرکز کی او بی سی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اجلاس میں کمیشن کے ارکان آر جیہ پرکاش، ٹی سریندر، آر بالا لکشمی، بی مایا دیوی آئی اے ایس ممبر سکریٹری، سرینواس راؤ ڈپٹی ڈائرکٹر، ستیش کمار اسپیشل آفیسر اور دوسروں نے شرکت کی۔1