سرکاری مشینری نفرت پھیلانے والوں سے خوفزدہ : پیس پارٹی

   

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ مبینہ سنت مہنت بجرنگ منی داس جیسے آج سیکڑوں شرپسند نفرت کو بڑھاوا دے کر ملک کو برباد کر رہے ہیں ،مذکورہ شرپسند ملک کے ماحول میں زہر گھولنے کا کام کر رہے ہیں ،مگر ان بی جے پی حامی شرپسندوں پر سرکاری مشینری قدغن لگانے کے برعکس خوف زدہ ہے ۔انہوں نے نفرت پھیلانے والے شرپسندوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ایک جانب تو حکومت خواتین کے احترام کی بات کرتی ہے ،دوسری جانب ان کے حامی مبینہ سادھو کے ذریعہ مسلم خواتین کو اترپردیش کے سیتاپور ضلع میں کھلے عام عصمت دری کی دھمکی دی جا رہی ہے ،جس کے الزام میں گرفتاری کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہا بھی ہو گیا ،وہیں ضلع سیتاپور کے خیرآباد قصبہ واقع مہارشی شری لکشمی داس اوداس آشرم کے مہنت بجرنگ منی داس نے مبینہ طور سے مسلمانوں و مسلم خواتین کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی ،جس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نفرت پھیلانے والوں کی ہوڑ سی لگی ہوئی ہے ۔گزشتہ آٹھ سال میں مسلمانوں کے خلاف جس طرح سے ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے ،اور نفرت پھیلانے والوں کا ایک سیلاب ضرور آگیا ہے ،ان پر قدغن لگانے کے برعکس حوصلہ افزائی کی جا رہی۔
عزت مآب عدالت سے مسلم طبقے کو وقت وقت پر اگر انصاف نہیں ملتا تو ،اب تک تباہ برباد کر دیا جاتا ۔آئین و عدالت کے بدولت مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے کام کا انجام دے رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسند گروپ کو اب مسلم نام سے نفرت ہے ،اب شاہ رخ خاں کی فلم پٹھان کی آڑ لے کر پرم ہنس آچاریہ نے کھلے عام شاہ رخ خاں کو زندہ جلاکر ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ گزشتہ آٹھ سال سے ہزاروں بے قصور مسلمان جیلوں کی اذیتیں برداست کرکے زندگی سے ہار چکے ہیں ۔
ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ ملک کے عوامی مسائل غریبی بے روزگاری وغیرہ جیسے ایشو سے بھٹکانے کے لئے بی جے پی حامی شرپسند عناصر فسطائیت پھیلا کر مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔اور بی جے پی کو مستفید کرنے کے لئے پولرائزیشن کی سیاست کی جارہی ہے ۔حکومت و اس کی مشینری نفرت پھیلانے والوں پر قدغن لگانے کے برعکس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔پیس پارٹی حکومت سے ملک کے مفاد میں نفرت پھیلانے والوں پر قدغن لگانے و قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے ۔