مدھیہ پردیش میں مسجد کمال مولا کا بھی سروے کرانے کا مطالبہ
بھوپال : بنارس کی گیان واپی مسجد کے سروے کا کام شروع ہوتے ہی کرناٹک کے علاوہ مدھیہ پردیش کی کئی تاریخی مساجد کو لیکر تنازعہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کرناٹک کے ضلع مانڈیا کے سری رنگا پٹنم ٹاون کی تاریخی جامع مسجد پر بھی ہندو تنظیموں کی نظر ہے جو اس مسجد کا بھی سروے کروانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔مانڈیا کے ڈسٹرکٹ کمشنر کو اسوتھی کو ہندو کارکنوں کی جانب سے ایک پٹیشن وصول ہوچکی ہے جس میں یہ معلوم کرنے کیلئے مسجد کا معائنہ اور سروے کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ آیا یہ مسجد ہنومان مندر پر تعمیر کی گئی ہے ۔ادھر بھوپال کی جامع مسجد کے بعد اب مدھیہ پردیش کے دھارمیں واقع مسجد کمال مولا کا تنازعہ بھی سامنے آگیا ہے۔ ہندو تنظیموں نے مسجد کمال مولا کو نہ صرف راجہ بھوج کی بھوج شالہ سے تعبیر کیا جارہا ہے بلکہ ہندوتنظیموں نے اس معاملے کو لیکر عدالت سے رجوع کرتے ہوئے گیان واپی مسجد کی طرز پر سروے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں مسلم تنظیموں نے بھی عدالت جانے کے لئے تیاری شروع کردی ہے۔مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع قدیم مسجد کمال مولاکو لیکر ہری شنکر جین نے اندور کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ ہری شنکر جین وہی ہیں جنہوں نے گیان واپی مسجد معاملے کو لیکر بھی عدالت میں عرضی دائر کی ہے۔ ہری شنکر جین کا کہنا ہے کہ دھار میں واقع مسجد کمال قدیم راجہ بھوج کی بھوج شالہ ہے۔ بھوج شالہ کے سبھی ثبوت موجود ہیں اور اسی کے ساتھ ہم نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ اس کا سروے کرایا جائے۔ سروے کرائے جانے کے بعد ساری حقیقت سامنے آجائے گی۔ وہیں مسلم سماج دھار کے صدر عبدالصمد کہتے ہیں کہ ابھی تک عدالت سے اس تعلق سے انہیں کوئی نوٹس نہیں ملا ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعہ ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ مسجد کو بھوج شالہ بتاتے ہوئے اندور کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ مسجد کو لیکر ہمارے یہاں جو بھی دستاویز ہیں، انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ دھار میں مسجد کمال مولا کی تعمیر عہد خلجی میں کی گئی تھی، لیکن آٹھ سو سال بعد اس معاملے کو لے کر تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما اور مسلم سماج تنظیم نے اس معاملے میں مدھیہ پردیش کی سطح پر تحریک چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاکہ ریاست کی دیگر مساجد کے دستاویز کو لیکر کمیٹیوں کو آگاہ کیا جاسکے اور وقت آنے پر عدالت میں پوری طاقت کے ساتھ اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے۔