سعودی عرب کیساتھ ٹرمپ نے سیول نیوکلیئر معاہدہ کی منظوری دے دی

   

معاہدہ کے تحت مملکت کو ایک سیویلین نیوکلیئر پروگرام فراہم کیا جائے گا : وال اسٹریٹ جرنل

واشنگٹن، 22 جولائی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئرمعاہدہ کی منظوری دے دی۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کی منظوری دے دی ہے ، جس کے تحت مملکت کو ایک سویلین نیوکلیئرپروگرام فراہم کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر اس کی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔یہ نیا معاہدہ، جو 30 سال کے لیے ہوگا، اندازاً دسیوں ارب ڈالر مالیت کا ہے ، اس کا مقصد امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے نیوکلیئربنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی میں مرکزی کردار دینا ہے ، جب کہ دیگر غیر ملکی حریف کمپنیوں کو اس منصوبے سے باہر رکھنا بھی اس معاہدے کا حصہ ہے ۔توقع ہے کہ یہ معاہدہ 30سال کے لیے ہوگا، اور سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی، اس نیوکلیئرتعاون معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ ہے ، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی ایک تنصیب (فیسلٹی) تعمیر کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔ تاہم، توقع ہے کہ یہ معاہدہ جائزے کے لیے کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے بعض قانون سازوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ان قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو اپنی دیرینہ خواہش کے مطابق خود یورینیم افزودہ کرنے میں مدد دینے سے نیوکلیئرہتھیاروں کے پھیلاؤ اور مسابقت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے ۔سعودی عرب، ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کا رکن ملک ہے ۔ یہ ادارہ پرامن نیوکلیئرسرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے ، تاہم یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی ممالک کا معائنہ کرتا ہے کہ وہ خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام نہیں چلا رہے ۔روئٹرز کے مطابق معاہدہ کو ایگریمنٹ 123 کا نام دیا گیا ہے ، اور اس پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان دستخط کریں گے ۔ دونوں وزرا نے گزشتہ سال ریاض میں ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔ یہ معاہدہ امریکی ایٹمی توانائی ایکٹ 1954 کی دفعہ 123 سے متعلق ہے اور اس کی منظوری اس لیے ضروری ہے تاکہ امریکی حکومت اور امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں موجود اداروں کے ساتھ مل کر اربوں ڈالر مالیت کی شہری نیوکلیئرصنعت کی ترقی پر کام کر سکیں۔