سعید آباد خواتین کے وفد کی وزیر داخلہ محمود علی سے ملاقات

   

پولیس کے جارحانہ رویہ کی شکایت ، غداری جیسے سنگین مقدمات سے دستبرداری کا مطالبہ
حیدرآباد۔ مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے گھر والوں اور سعید آباد کی خواتین پر مشتمل ایک وفد نے چہارشنبہ کے روز ریاستی وزیر داخلہ محمد محمودعلی سے ان کے دفتر پہنچ کر ملاقات کی اور ایس آئی ٹی کی نوٹس اور تفتیش کے لئے طلب کرنے کے متعلق ایک تحریری نمائندگی بھی پیش کی ۔خواتین نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںپیش آنے والے واقعات سے لے کر تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مختلف مواقعوں پر سعید آباد کی خواتین کے خلاف پولیس کے جارحانہ رویہ کی تفصیلات سے ریاستی وزیر داخلہ محمد محمودعلی کو واقف کروایا۔اور کہاکہ قنوت نازلہ کا انعقاد پولیس کی اجازت سے کیاگیاتھا اس کے باوجود پولیس نے سیڈیشن جیسے سخت قوانین کے تحت خواتین پر مقدمہ درج کیا۔ تحریری نمائندگی کے ذریعہ مذکورہ وفد نے محمد محمودعلی سے غداری جیسے سنگین دفعات سے پولیس کی دستبرداری کی مانگ کی اورکہاکہ ہر سال بابری مسجد کی شہادت پر قنوت نازلہ کا پولیس کی اجازت سے ہی انعقاد عمل میںآتا ہے اور عید گاہ کی چار دیواری کے اندر خواتین اس پروگرام کو منعقد کرتے ہوئے بابری مسجد کی شہادت پر اپنے غم اور غصہ کا اظہار کرتی ہیں۔ تقریبا نصف گھنٹے تک محمودعلی نے وفد کی ساری باتیں او رشکایت سنیںاور انہیںبتایا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مسلمانوں کے تئیں پولیس کے رویہ میں نمایاں تبدیلی ائی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے امن وسکون کے ساتھ کسی بھی قسم کے کھلواڑ کوپولیس اور ریاستی انتظامیہ کبھی برداشت نہیںکرے گا۔انہوں نے وفد سے کہاکہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے مگر اس میںکسی بھی قسم کے غیر جمہوری نعروں یا بیان بازیوں پر پولیس کاروائی ریاست میںامن وسکون کی برقراری کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میںپولیس غیر جانبداری کے ساتھ کاروائی کررہی ہے اور وفد کو اس بات کابھی یقین دلایا کہ وہ بہت جلد اس کیس کے ضمن میں تفصیلات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد پولیس کو ضروری ہدایتیں جاری کریں گے۔انہوں نے اس کے علاوہ وفد سے یہ بھی کہاکہ کسی بھی قسم کا تشدد یا غیر جمہوری واقعات کو پولیس ہر گز برداشت نہیںکرے گی ۔