٭ چیف منسٹر کے سی آر اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان راست ٹکراؤ
٭ 18جنوری کو کھمم میں بی آر ایس کا اور 19کو سکندرآباد میں بی جے پی کا جلسہ
٭ 26 جنوری سے صدر پردیش کانگریس ر یونت ریڈی کی پدیاترا
حیدرآباد ۔ 9 جنوری ( سیاست نیوز) جاریہ سال تلنگانہ کے بشمول ملک کی 9ریاستوں میں اسمبلی انتخابات منعقد ہورہے ہیں جس کو سال 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل سیمی فائنل تصور کیا جارہا ہے ۔ بالخصوص تلنگانہ میں سنکرانتی تہوار کے بعد سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچنے والی ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت ریاست میں اپنے وجود اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے اپنی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوگئی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اپنی قومی جماعت بی آر ایس کا پہلا جلسہ عام کھمم میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں تین ریاستو ں کے چیف منسٹرس اروند کجریوال ، بھگونت مان اور پی وجین کے علاوہ سابق چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو کے علاوہ دیگر جماعتوں کے قائدین شرکت کریں گے ۔ اس جلسہ عام کو کامیاب بنانے چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں ضلع بی آر ایس قائدین کا اجلاس طلب کیا جس میں جلسہ عام کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی 19جنوری کو حیدرآباد میں سکندرآباد ۔ وجئے واڑہ کے درمیان وندے بھارت ٹرین کا افتتاح کریں گے ۔ اس کے علاوہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کو ترقی دینے کے پروگرامس کا آغاز کریں گے ، اس کے بعد جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔ اس پروگرام کو وزیراعظم دفتر کی جانب سے قطعیت دی گئی ہے ۔ وزیراعظم کے پروگرامس اور جلسہ کو کامیاب بنانے کا آج تلنگانہ بی جے پی صدر بنڈی سنجے اور بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر لکشمن اور دوسرے قائدین نے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پہنچ کر جائزہ لیا اور جلسہ عام کے مقام کا بھی معائنہ کیا ۔ ان پروگرامس کو کامیاب بنانے بی جے پی کی جانب سے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ قومی بی جے پی کو اس مرتبہ شمالی ہند سے مایوسی کا سامنا ہے جس کے بعد اس نے اپنی ساری توجہ جنوبی ہند پر کردی ہے کیونکہ جنوبی ہند میں پہلے کرناٹک اور بعد میں تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت ہے ، کرناٹک میں اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے اور تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ دوسری جانب کانگریس ہائی کمان بھی جنوبی ریاستو ں کرناٹک و تلنگانہ سے کافی ساری امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں ۔دونوں ریاستو ں کے سروے میں کانگریس کو مثبت اشارے ملے ہیں جس کے بعد کانگریس پارٹی کو دونوں ریاستو ں میں سرگرم کرنے خصوصی منصوبہ بندی ہے ۔ کرناٹک میں پارلیمانی حلقوں کے لحاظ سے انچارجس نامزد کئے گئے ہیں ۔ تلنگانہ کانگریس اُمور کے انچارج مانکیم ٹیگور کو ہٹاکر ان کی جگہ مانک راؤ ٹھاکرے کو نیا انچارج بنایا گیا جو 11جنوری سے دو روزہ دورہ پر حیدرآباد پہنچیں گے اور کانگریس کے مستقبل کی حکمت عملی کو قطعیت دیں گے ۔ اس کے علاوہ صدرتلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی 26 جنوری سے ریاست میں ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کریں گے ۔ اس کی پارٹی کی جانب سے تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ ریونت ریڈی ریاست کے 119 کے منجملہ 90 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرکے پارٹی کیڈر میں نیا جوش و خروش پیدا کریں گے ۔ راہول گاندھی کے بھارت جوڑو یاترا کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔ وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا ، تلنگانہ بہوجن سماج پارٹی کنوینر پروین کمار اپنی پارٹیوں کو سرگرم کرنے اضلاع کا دورہ کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ ن