سنگارینی کالریز کو خانگیانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ‘ وزیر اعظم مودی

   

گذشتہ آٹھ برسوں میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ۔ کام کرنے کے طریقے بدل گئے ۔ راما گنڈم فرٹیلائزرس قوم کے نام معنون
حیدرآباد 12نومبر(یواین آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ تلنگانہ کی سنگارینی کالریز کوئلہ کی کانوں کو خانگیانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور ایسی کوئی تجویز مرکز کے پاس زیرغور نہیں ہے ۔ مرکز اس کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے افواہوں پر توجہ نہ دینے پر زور دیا اور کہا کہ بعض طاقتیں یہ افواہوں پھیلا رہی ہے ۔ سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹڈ میں تلنگانہ کی حصہ داری 51 فیصد ہے جبکہ مرکز کی حصہ داری 49 فیصد ہے ۔ ایسے میں اس کی نجی کاری کا فیصلہ مرکز اپنے طور پر نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن سیاسی مفاد کیلئے بعض طاقتیں ایسی افواہیں پھیلا رہی ہیں۔ وزیراعظم مودی نے راماگنڈم فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکلس لمیٹڈ (آر ایف سی ایل) کو قوم کے نام کیا۔اس موقع پر خطاب میں انہوں نے کہا کہ کورونا کے درمیان پوری دنیا میں ہندوستان نے تیزی سے قدم آگے بڑھائے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں ملک میں کام کرنے کے طریقے بدل گئے ہیں۔ انفرااسٹرکچر، ایز آف ڈوئنگ میں ترقی قابل قدر رہی ہے ۔ اس ترقی اور عزم کے ساتھ نیا بھارت دنیا کے سامنے ہے ۔ ترقی کا مشن 24 گھنٹے جاری رہتا ہے ۔21 ویں صدی کا ہندوستان بڑے نشانوں کو طئے کرکے آگے بڑھ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں کھاد کیلئے ہندوستان کو دیگر ممالک پر انحصار کرنا پڑتا تھا اور یہ کھاد کارخانوں میں پہنچائی جاتی تھی۔ کئی مرتبہ کسانوں کو اس کے لئے قطاروں میں ٹھہرنا پڑتا تھا لیکن اس میں ملک کو خودمکتفی بنایا گیا۔ راماگنڈم سے تلنگانہ کے علاوہ آندھراپردیش، چھتیس اور مہاراشٹرا کے کسانوں کوعصری کھاد حاصل ہوگی۔ کورونا کے سبب دنیا بھر میں کھاد کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ تاہم مرکز نے کسانوں پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا۔ مرکز کو یوریا کا ایک تھیلا دو ہزار روپے میں حاصل ہوتا ہے تاہم اسی تھیلے کو کسانوں کو 270 روپے میں دیا جاتا ہے ۔کسان سمان ندھی کے تحت لگ بھگ سوادو لاکھ کروڑ کسانوں کے کھاتوں میں رقم جمع کروائی گئی ہے ۔ ملک میں مستقبل میں ایک ہی یوریا کا نیا برانڈ بھارت یوریا ہوگا۔ اس کی قیمت اور معیار بھی طئے کیا گیا ہے ۔ ملک کے کسانوں کیلئے اصلاحات لائے گئے ہیں۔ ریاستوں میں عصری ریلوے ، ایرپورٹ اور ہائی ویز کے کام تیزی کے ساتھ جاری ہے ۔ کھمم کو بھدرادری کوتہ گوڑم سے جوڑنے والی نئی ریلوے لائن شروع کی گئی جس سے تلنگانہ عوام کو فائدہ ہوگا ۔ اس موقع پر بھدراچلم روڈ۔ ستوپلی ریلوے لائن کا بھی افتتاح کیا۔ اپنے خیرمقدمی خطاب میں مرکزی وزیر سیاحت کشن ریڈی نے کہا کہ کھاد کی طلب کو پورا کیا گیا ہے ۔ ہر کھاد کے تھیلے پر 1472 روپے صرف کئے جارہے ہیں۔ دھان پر ایم ایس پی میں اضافہ کرکے اسے 2000 روپے کردیا گیا۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران دھان کی خریداری پر 26 ہزار کروڑ روپے صرف کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ای ایس آئی اسپتال ریاستی حکومت سے اراضی کی منظوری کے بعد تعمیر کیا جائے گا۔ این ٹی پی سی میں 800سو میگاواٹ کے پراجکٹ مکمل کئے گئے ہیں اور مزید 800میگاواٹ کے پراجکٹ کے کام جاری ہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ راماگنڈم میں فلوٹنگ سولار پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ہے ۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن، مرکزی وزیر کیمیکلس بھگونت کھوبا اور دوسرے موجود تھے ۔ اس موقع پر بھدراچلم۔ ستوپلی نئی ریلوے لائن پراجکٹ کو قوم کے نام کیا گیا۔ سنگارینی اور وزارت ریلوے کی جانب سے مشترکہ طور پر 960 کروڑ روپے کے صرفہ سے یہ پراجکٹ مکمل کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر تین قومی شاہراہوں کے پراجکٹس کے توسیعی کاموں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔