سوشیل میڈیا پر سرگرم رہنے والی افسر نے سیلفی لینے پر نوجوان بھیج دیاتھا جیل 

,

   

صحافی کے پوچھنے پر کہاتھا’’ گھر بھیج دوں کچھ لڑکوں کو ماں بہن کے ساتھ فوٹو کھینچانے کے لئے‘‘۔

لکھنو۔سوشیل میڈیا پر سگرم رہنے والی ائی اے ایس افیسر بی چندرکلا ہمیر پور ‘ بلند شہر متھرا میں ضلع مجسٹریٹ کی ذمہ داری نبھانے چکی ہیں۔

بلند شہر میں تعیناتی کے دوران ایک نوجوان نے ان کے ساتھ موبائیل سے سیلفی لے لی تھی جس ھر انہو ں نے نوجوان کو جیل بھیج دیاتھا۔

اس اطلاع پر جب صحافی ضلع مجسٹریٹ سے نوجوان کے جیل بھیجنے کا جرم پوچھا تو انہوں نے کہاتھا کہ آپ کے گھر کچھ لڑکوں بھیج دیں تاکہ وہ ماں بہن کے ساتھ فوٹو کھینچ سکیں۔اس بیان کے بعد بی چندرکلا کافی چرچا میں اگئیں تھی۔

آبائی طورپر آندھرا پردیش میں رہنے والی بی چندرکلاں نے ایم اکنامکس سے کیا اس کے بعد سیول سرویس میں شامل ہوئی 2008میں وہ ائی اے ایس بنی ان کو اترپردیش کیڈر ملا۔ان کی پہلی پوسٹنگ الہ آباد میں سی ڈی او ہوئی اس کے بعد بلند شہر کی ذمہ داری دی گئی ۔

بلند شہر میں تعینانی کے دوران و ہ سوشیل میڈیا پر سرگرم ہوئی ۔انہوں نے موقع پر پہنچ کر افسران کی کلاس لگائی اور اس کے ویڈیو بناکر سوشیل میڈیا پر وائرل بھی کئے۔سوشیل میڈیا پر ان کی ایمانداری سے کئی لوگ ان سے متاثر بھی ہوئے۔ بلند شہر میں تعیناتی کے دوران ایک نوجوان ان سے ملنے گیا اور اس نے ضلع مجسٹریٹ بی چندرکلا کے ساتھ سیلفی لے لی۔

اس کے اس جرم پر انہوں نے نوجوان کو اپنے آفس سے سیدھے جیل بھیج دیا۔

اس کے جیل بھیجنے کی اطلاع پر ایک صحافی نے ان کوفون کرکے نوجوان کو جیل بھیجنے کی وجہہ پوچھی تو انہو ں نے صحافی سے کچھ لوگوں کو اس کے گھر بھیج کر ماں بہنوں کے ساتھ فوٹو کھچوانے کی بات کہی جس کی توقع صحافی کو بھی نہیں تھی‘ ان کایہ جواب بھی کافی چرچا میں رہا۔

بتایاجاتا ہے کہ بلند شہر میں تعیناتی کے دوران ہی اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کا اعلان کیاگیا۔

الیکشن کے بعد بی جے پی نے ضلع مجسٹریٹ کو ہٹانے کے لئے مورچہ کھول دیا انہو ں نے الیکشن کمشنر سے شکایت کی ضلع مجسٹریٹ وزیر اعلی اکھیلیش یادو کی کافی قریبی افسر ہیں جس کی وجہہ سے وہ بی جے پی کے پروگرامو ں میں رخنہ ڈال رہی ہے اور وہ ڈی ایم نہیں بلکہ سماج وادی پارٹی کارکن کی طرح کام کررہی ہیں۔

اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد ان کو ایک دھمکی بھرا خط بھی ملاتھا جس میں لکھنے والے نے اپنے آپ کو جیش محمد کا کارکن بتایاتھا اس خط کی جانچ خفیہ ایجنسیوں کو دی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے خط میں لکھا تھا کہ آپ کی پولیس کی وجہہ سے لوگوں کو جھونپڑپٹی میں رہنا پڑتا ہے ۔

ہم نے ضلع مجسٹریٹ کی رہائش گاہ او رمیرٹھ کے کمشنر کی رہائی گاہ کا ویڈیو بناکر حافظ سعید کو بھیج دیا ہے