حلال اور جھٹکہ اور مذاہب پر مباحث، منافرت سے بچنے خاموشی ہی بہتر راستہ
حیدرآباد: سوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت کا بازارگرم کرنے اور نفرتوں کو فروغ دینے کی متعدد طریقہ سے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن مسلم نوجوانوں کو ان کوششوں کا شکار ہونے کے بجائے مہذب انداز میں اس کا جواب دینا چاہئے یا پھر اگر یہ واضح ہورہا ہے کہ یہ ایک پروپگنڈہ ہے تو اس کے خلاف کوئی جواب دینے کے بجائے اس پر خاموشی اختیار کرنی چاہئے ۔فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمس پر اب تک لو جہاد ‘ گائے کے گوشت کے نام پر مسلم نوجوانوں اور مسلم طبقہ کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب مسلم طبقہ کو نشانہ بنانے والوں کی جانب سے دل آزاری کے نت نئے طریقہ اختیار کئے جانے لگے ہیں۔حلال گوشت کے استعمال کے مقابلہ میں جھٹکہ کے گوشت کی فروخت اور اس کی دستیابی کے متعلق استفسارات کے ذریعہ یہ تاثر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ غیر مسلم جو چکن یا دیگر گوشت کا استعمال کرتے ہیں وہ حلال کے بجائے جھٹکہ کے گوشت کو ترجیح دیں تاکہ حلال ذبیحہ کے تاجرین کے بجائے ان سے کاروبار کیا جائے جو جھٹکہ کا گوشت فروخت کرتے ہیں۔سوشل میڈیا کا استعمال ان گھناؤنے مقاصد کے لئے زیادہ ہونے لگا ہے اور سوشل میڈیا پر منافرت کو روکنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے اشیائے تغذیہ اور گوشت کے مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے اپنی گندی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہوئے ان پر مباحث کئے جا رہے ہیںاوربالواسطہ یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک مخصوص طبقہ کو کسی بھی طرح سے تجارتی سرگرمیوں سے دور کرنے کی کوشش کی جائے اور انہیں ایسے کام کیلئے مجبور کیا جائے جو وہ اپنے کاروبار میں کرنا گناہ تصور کرتے ہیں۔ حلال اور جھٹکہ کے گوشت کے معاملہ میں سوشل میڈیا پرجاری مباحث کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے آبادی کا تناسب اور جھٹکہ کے گوشت علاوہ استعمال کرنے والوں کی آبادی اور ان کے مذاہب کے متعلق بحث کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ جن لوگوں کو جھٹکہ کھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ حلال مجبوری میں خرید رہے ہیں اور جن لوگوں کو حلال کھانا ہوتا ہے ان کے کاروبار میں جھٹکہ کھانے والوں کا بھی بڑا حصہ ہے اس طرح کے فضول مباحث کا حصہ نہ بنتے ہوئے نوجوانوں کو ایسے سوشل میڈیا پوسٹ کو نظر انداز کرنا چاہئے جو منافرت پھیلاتے ہیں۔