نیویارک : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوڈان اور چاڈ کے درمیان آدرے بارڈر گیٹ کو 3 ماہ کے لیے کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے تاکہ ملک میں جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دی جا سکے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دویارچ کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ آدرے بارڈر گیٹ دارفور میں بھوک کا سامنا کرنے والے لاکھوں لوگوں تک انسانی امداد پہنچانے کا سب سے براہ راست اور موثر طریقہ ہیاور گوٹیریس نے سوڈانی حکام کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔بیان میں گوٹیرس نے انسانی امداد تک رسائی کو یقینی بنانے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اور پائیدار اقدامات کی اہمیت پر زور دیااور اس بات پر زور دیا کہ انسانی امدادی تنظیموں کو دارفور اور پورے ملک میں شہریوں تک محفوظ اور بلا روک ٹوک پہنچنا چاہیے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ سوڈانی عوام کے مصائب کو کم کیا جا سکے اور تنازعہ کے خاتمے میں مدد ملے۔سوڈانی حکومت نے 25 جولائی کو اعلان کیا کہ آدرے بارڈر گیٹ کو اس بنیاد پر بند کر دیا گیا تھا کہ اسے قوت الحرک نے اسلحہ فراہمی کے لیے استعمال کیا تھا۔15اگست کو سوڈان نے چاڈ کے ساتھ آدرے بارڈر گیٹ کو 3 ماہ کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک میں جنگ سے متاثرہ افراد تک انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دی جا سکے۔