خرطوم : سوڈان میں ہزاروں سال پرانے خرطوم کے قومی عجائب گھر کی تباہی کے مناظر نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ میوزیم ملک کے سب سے نمایاں تاریخی مقامات میں سے ایک ہے، جس میں ہزاروں سال پر محیط ثقافتی ورثہ موجود ہے۔اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں تباہ شدہ میوزیم کو کھنڈر میں تبدیل دیکھا جا سکتاہے۔ خالی ہال، بکھرے مجسمے اس کی باقیات ہیں۔ ماضی کو جنگی مشین نے اسے بے رحمی سے کچل کررکھ دیا ہے۔اس تباہی کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم غم اور غصے سے بھرپور جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صارفین نے باغی گروپ ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘پر الزامات لگایا انہوں نے دو سال قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے میوزیم پر اپنا کنٹرول قائم کیا تھا۔کچھ لوگوں نے اس واقعے کو ’’تاریخ کا قتل عام‘‘ قرار دیا۔میوزیم کو سوڈان کے سب سے نمایاں ورثے کے ذخیرے میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ یہ مختلف تاریخی ادوار سے تعلق رکھنے والے رہائشی نمونوں کے علاوہ پتھر کے زمانے سے لے کر کرما، ناپاتا، میرو تہذیب، عیسائی اور اسلامی ادوار کی نشانیاں اور تاریخی نوادرات موجود تھیں۔سوشل میڈیا کارکنوں اور آثار قدیمہ کے شائقین نے ہیش ٹیگ #SaveSudan’sAntiquities شروع کیا ہے تاکہ دنیا کی توجہ سوڈان میں آثار قدیمہ کی بے مثال تباہی کی طرف مبذول کرائی جائے اور اس کے ثقافتی ورثے کی باقیات کی حفاظت کیلئے موثر اقدامات کیلئے دباؤ ڈالا جائے۔