سپریم کورٹ نے 8 سالہ بچی سے عصمت دری کے ملزم کی سزائے موت برقرار رکھی

   

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے راجستھان میں 2013 میں 8 سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل سے متعلق ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مجرم منوج پرتاپ سنگھ کی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف مجرم کی اپیل مسترد کر دی۔ نچلی عدالت نے منوج کو موت کی سزا سنائی تھی۔ جسے راجستھان ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ معصوم بچی کی عصمت دری اور قتل ایک گھناؤنا جرم ہے۔ ایسے مجرم کو سزا نہ دی گئی تو عام آدمی کا معاشرے میں جینا مشکل ہوجائے گا۔ مجرم منوج پرتاپ سنگھ نے ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ راجس مند کے رہنے والے منوج پرتاپ سنگھ نے 17 جنوری 2013 کی شام کو شراب کے نشے میں لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ پھر اسے پتھر سے کچل کر قتل کر دیا گیا۔