نئی دہلی، 29 مئی (یواین آئی) سپریم کورٹ نے جمعہ کو قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ۔یو جی) پیپر لیک تنازع پر قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے ) کے خلاف سخت ریمارکس دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ نگرانی کے نظام اور دیکھ بھال کرنے والی کمیٹیوں کی موجودگی کے باوجود اتنی سنگین چک کیسے ہو سکتی ہے ۔عدالت نے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے ساتھ نیٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے سول سروس امتحان میں ایسی کوئی صورتِ حال سامنے نہیں آئی، اور این ٹی اے کو وہاں اپنائے گئے حفاظتی اقدامات اور نظام سے سبق سیکھنا چاہیے ۔ یہ ریمارکس عدالت نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے کی سماعت کے دوران دیے ۔ سماعت کے دوران این ٹی اے اور کے رادھاکرشنن کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے این ٹی اے اور ڈاکٹر رادھا کرشنن کی جانب سے دائر حلف ناموں کو ریکارڈ پر لیا اور مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کیلئے مزید وقت دیا۔ این ٹی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ نیٹ-یو جی 2026 کو منسوخ کرنے اور مبینہ پیپر لیک کی جانچ سینٹرل بیورو انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے سپرد کرنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایجنسی اور مرکزی حکومت امتحانی عمل کی شفافیت اور دیانت داری کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ این ٹی اے نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے تنازعات کے بعد امتحانی عمل کی شفافیت، سلامتی اور اعتماد کو مضبوط بنانے کیلئے کئی بڑے اصلاحی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں این ٹی اے نے عدالت کی ہدایات پر تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل اور کام سے متعلق وقت کی تفصیلات فراہم کیں۔
ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ اس کی جانب سے منعقد کی جانے والی تمام بڑی امتحانات میں صرف نیٹ-یو جی 2026 ایسا امتحان تھا جو اب تک قلم اور کاغذ (پی پی ٹی) طریقے سے لیا جا رہا تھا۔ یہ بنیادی طور پر وزارتِ صحت و خاندانی بہبود اور نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے مقرر کردہ نظام کے مطابق ہو رہا تھا۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ این ٹی اے کی دیگر تمام بڑی امتحانات پہلے ہی کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (سی بی ٹی) طریقے سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ این ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے خاص طور پر سفارش کی ہے کہ نیٹ-یو جی کو پی پی ٹی سے سی بی ٹی موڈ میں منتقل کیا جائے ، اور اس کے ساتھ کثیر مرحلہ اور کثیر سیشن امتحانات کا آغاز بھی کیا جائے ۔ ایجنسی کے مطابق، متعلقہ وزارت سے مشاورت کے بعد یہ تبدیلی اگلے امتحانی مرحلے سے نافذ کی جائے گی۔ یہ حلف نامہ نیٹ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور وسیع امتحانی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت درخواستوں کے سلسلے میں داخل کیا گیا تھا۔