سپریم کورٹ ہولی کے بعد حجاب تنازعہ کی سماعت کریگی

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ’حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی کی فوری سماعت کرنے کی درخواست کو چہارشنبہ کو مسترد کر دی اور اسے ہولی کے بعد اس پر غور کرنے کا اشارہ دیا۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کہا کہ ہولی کے بعد اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔ سینئر وکیل سنجے ہیگڈے نے اس معاملے کو فوری قرار دیا اور آج ’خصوصی ذکر‘ کے دوران فوری سماعت کی مانگ کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں ہیگڈے اور دیگر کی درخواست پر ہولی کے بعد سماعت کی جائے گی۔ اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی کو جاری رکھنے کے کرناٹک ہائی کورٹ کے منگل کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔نیبا ناز نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔عرضی گزار نے اپنی درخواست میں کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1983اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہیکہ طلبہ کیلئے کسی بھی طرح سے لازمی یونیفارم کا کوئی التزام نہیں ہے ۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ یونیفارم کا تعین آئینی ہے اور طلباء اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔ عدالت میں دائر درخواست میں ریاستی حکومت کی طرف سے کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ کے تحت 5 فروری 2022کے حکم کی صداقت پر سوال اٹھایا گیا ہے ۔