سڑک سامنے ہے، لیکن جانے کیلئے جگہ کہیں نہیں : دو سال میں 789 پیدل راہگیروں کی اموات ہوئیں

   

حیدرآباد ۔ 22 اگست (سیاست نیوز) آسٹن مارٹن کے سیلس ایگزیکیٹیو بھارتی مکھی کو روند ڈالنے کے واقعہ سے حیدرآباد اور سائبرآباد میں پیدل راہگیروں کیلئے بڑھتے ہوئے جوکھم اور خطرات پر پھر ایک مرتبہ توجہ مرکوز ہوگئی ہے جہاں 2024 اور 2025 میں پیدل راہگیروں کی جملہ 789 اموات ہوئیں۔ حیدرآباد کمشنریٹ نے 2024ء میں پیدل راہگیروں کی 118 اموات ریکارڈ کئے اور 2025 میں 105 اموات، سائبرآباد میں اس سے زیادہ تعداد میں 2024ء میں پیدل راہگیروں کی 281 اموات ہوئیں اور 2025ء میں 285 اموات ہوئیں۔ روڈسیفٹی کے ماہر اور ایک این جی او، انڈین فیڈریشن آف روڈسیفٹی کے فاونڈر، ونود کنومالا نے اس طرح کی اموات کو ناکافی پیڈسٹرئین انفراسٹرکچر، بالخصوص مسلسل فٹ پاتھس اور محفوظ روڈ کراسنگ سہولتوں کے نہ ہونے سے منسوب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں پیدل راہگیروں کیلئے کوئی ایک، ایک کیلو میٹر اسٹریچ کا فٹ پاتھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گاڑیوں کیلئے انفراسٹرکچر پر مسلسل توجہ دی جارہی ہے جبکہ پیدل راہگیروں کیلئے سہولتوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ کنومالا نے سپریم کورٹ اور روڈ سیفٹی پر اس کی کمیٹی کی جانب سے لازمی بنائے گئے روڈ سیفٹی (سڑک سلامتی) اقدامات کے عملدرآمد پر بھی سوال کیا۔ ان ہدایات کے تحت ریاستی اتھاریٹیز اور ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹس کو ٹریفک خلاف ورزیوں، لائسنس کی معطلی اور سیفٹی اقدامات پر اس کمیٹی کو سہ ماہی ایکشن رپورٹس اور ڈیٹا داخل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ریاستوں کو ڈسٹرکٹ روڈسیفٹی کمیٹیاں قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس دوران پولیس نے کہا کہ پیدل راہگیروں کی سیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ نوین ریڈی، اے سی پی ایل بی نگر ٹریفک پولیس نے کہا کہ مزید فٹ اوور بریجس تعمیر کئے جارہے ہیں جس میں سینئر سٹیزنس کی سہولت کیلئے یلیویٹرس کے ساتھ فٹ اوور بریجس شامل ہیں۔ نوین ریڈی نے کہا کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے فٹ پاتھس سے غیرقانونی قبضوں کو برخاست کرنے اور پیدل راہگیروں کی جگہ کو بحال کرنے کیلئے جی ایچ ایم سی کے ساتھ مل کر کام کیا جارہا ہے۔A