وارانسی 12 / فروری (ایجنسیز) وارانسی میں موجود تاریخی دال منڈی علاقہ میں انتظامیہ کی طرف سے توڑ پھوڑ کی کارروائی شروع ہو گئی ہے جس نے مقامی افراد اور تاجرین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام کیلئے متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں مسلم اکثریتی اس علاقہ کو چوڑا کیا جا رہا ہے جس کے تحت بڑے پیمانہ پر توڑ پھوڑ کی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ پولیس فورس کی موجودگی میں انتظامیہ کی طرف سے ہوئی اس کارروائی نے مقامی لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور ان کی حمایت میں سماجی و سیاسی کارکنان نے آواز بھی بلند کی ہے۔حکومت متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے سے بچنے کیلئے مختلف بہانے تلاش کررہی ہے۔اس علاقہ میں صرف مسلمان نہیں رہتے بلکہ40فیصد تاجرین ہندووں ہیں۔حکومت نے کسی کو بھی دوسرے مقام پر جگہ فراہم نہیں کی ہے اور نہ کوئی دوکان دی جارہی ہے۔ چار منزلہ عمارتوں کو بے دردی سے منہدم کیا جارہا ہے ۔ مقامی تاجرین نے بتا یا کہ انہدامی کارروائی کے بعد علاقہ جنگ زدہ دکھائی دے رہا ہے ۔تصاویر ایسی ہیں جیسے اسرائیلی حملہ کے بعد غزہ پٹی سے آرہی تھیں۔حکومت کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں دو افراد اور کئی نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد حکام نے انہدامی کارروائی کو جاری رکھا ہے ۔کاشی وشواناتھ دھام کیلئے سڑک کی توسیع کے اس پراجکٹ کی لاگت 224کروڑ روپئے بتا ئی گئی ہے۔650میٹر طویل پٹی 187عمارتوں کا حصول اور ان کے انہدام کی کارروائی کی جارہی ہے ۔ کانگریس نے بھی اس معاملہ میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کارروائی کو عوام مخالف اور حکومت کی تاناشاہی قرار دیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے لوگ زار و قطار رو رہے ہیں لیکن حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔