سیاستدانوں میں ای ڈی ، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کا خوف

   


پڑوسی ریاستوں کے قائدین کا بی آر ایس میں شمولیت سے گریز

حیدرآباد۔7۔جنوری(سیاست نیوز) ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص پڑوسی ریاست آندھراپردیش‘ کرناٹک ‘ مہاراشٹر ا میں مختلف سیاسی جماعتو ںکے قائدین انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ‘ سی بی آئی اور انکم ٹیکس کے خوف سے بھارت راشٹر سمیتی میں شرکت سے گریز کرر ہے ہیں! بی آر ایس قائدین اپنی پارٹی کو قومی سطح پر کوئی حوصلہ افزاء ردعمل حاصل نہ ہونے کے بعد یہ باور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار اور مرکزی ایجنسیوں کے استعمال کے خوف سے سیاسی جماعتوں کے قائدین جو بی آر ایس میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ بھارت راشٹر سمیتی سے دوری بنائے رکھے ہوئے ہیں۔ پارٹی کے کئی قائدین نے بتایا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارت راشٹر سمیتی میں تبدیل کئے جانے کے بعد قومی سطح پر کئی قائدین نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے نیک تمناؤں کے اظہار کے علاوہ انہیں مبارکباد پیش کی اور ساتھ ہی پارٹی کے نظریات سے اظہار یگانگت کے باوجود پارٹی سے دوری بنائے رکھے ہوئے ہیں ۔ بی آر ایس قائدین کے مطابق جنوبی ہند کی ریاستوں میں سرگرم سیاستدانوں کے کاروبار بھی موجود ہیں اور وہ اپنے ان کاروبار کو ای ڈی ‘ آئی ٹی اور سی بی آئی کے دھاؤوں سے محفوظ رکھنے کے لئے بھارت راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ پس پشت رہتے ہوئے بی آر ایس کی تائید کا تیقن دے رہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بی آر ایس میں تبدیل کئے جانے کے باوجود پارٹی کو قومی سطح پر کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہ ہونے اور پڑوسی ریاست کرناٹک میں جے ڈی ایس قائدین کی کے سی آر سے قربت اور گذشتہ دنوں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے ساتھ امیت شاہ کے شہ نشین پر نظرآنے کے بعد کرناٹک میں بھی اتحاد کے متعلق چہ مئیگویاں کی جانے لگی ہیں۔ مرکزی ایجنسیوں کے خوف کے سبب مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کی عدم شمولیت کو سیاسی مبصرین کی جانب سے کسی حد تک درست قرار دیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں سیاستدانوں کا تعلق تجارتی برادری سے ہوتا ہے اور وہ اپنی تجارت کو کسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنانے سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو کہا جا رہاہے ممکن ہے کہ وہ کسی حد تک درست ہو لیکن بی آر ایس کو قومی سطح پر جس انداز میں تائید حاصل ہونے کا امکان تھا ویسی کوئی تائید حاصل نہیں ہوئی جو کہ مختلف قیاس آرائیوں کی وجہ بن رہا ہے۔م