٭ اللہ عزو جل کو بندہ کا خوف سے رونا پسند
٭ مرحومین کی مغفرت کیلئے رو رو کر دعا کرنے کا مشورہ
٭ ایک خاتون نے 277 کفن فراہم کئے
حیدرآباد : اگر کسی بزرگ شخص کا اچانک انتقال ہوجائے ، ان کی اولاد کو اپنے باپ کے مرنے کا علم نہ ہو ان کے رشتہ دار بھی اپنے عزیز کی موت کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتے ۔ کسی نوجوان کا اپنے گھر سے دور کہیں دوسرے مقام پر انتقال ہوجائے اس کی زندگی کا چراغ بجھ جائے اور اس کے والدین ، بھائی ، بہنوں ، بیوی بچوں کو اس کا پتہ نہ چلے اور یہ نعشیں کسی سرکاری دواخانہ کے مردہ خانہ میں محفوظ رکھ کر لاوارث قرار دی جائیں اور پھر ان نعشوں کو کسی Dump yard اور شمشان گھاٹ میں ٹھکانے لگانے بلدیہ یا پھر خانگی گتہ داروں کے حوالے کردیا جائے اور ان نعشوں کو نذر آتش کئے جانے کے بعد ارکان خاندان یا ورثاء کو پتہ چلے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ یہ سوچ کر ہی ہمارا سارا وجود لرز جاتا ہے ۔ آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ روزنامہ سیاست کے تحت ملت کی خدمت میں مصروف ملت فنڈ نے لاوارث مسلم میتوں یا نعشوں کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا ہے اور تاحال ملت فنڈ نے 4730 لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین انجام دی ہے ، اس ضمن میں ہمدردان ملت اور ہماری ریاست بالخصوص حیدرآباد کے غیور مسلمانوں کا اہم کردار رہا ہے جو ملت فنڈ کی دامے درمے سخنے مدد میں آگے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ جب بھی کوئی مسلم لاوارث نعش دستیاب ہوتی ہے تو سیاست ملت فنڈ کو اس کے بارے میں تفصیلات دی جاتی ہیں جس کے بعد ملت فنڈ کی جانب سے لاوارث مسلم میتوں کو غسل دیا جاتا ہے ، کفن پہنایا جاتا ہے ، نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اور شہر یا پھر شہر کے مضافات میں ان لاوارث مسلم نعشوں کی تدفین عمل میں آتی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کو کل پولیس اسٹیشن گولکنڈہ سے دو مسلم لاوارث نعشوں کی تجہیز و تکفین کی درخواست موصول ہوئی ، اس کے علاوہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف پولیس اسٹیشنوں سے مزید 9 مسلم لاوارث نعشوں کی تجہیز و تکفین کیلئے درخواستیں موصول ہوئیں چنانچہ ان 11 مسلم نعشوں کی دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ سے حاصل کر کے قبرستان تھر تھرے شاہ سکندرآباد میں تدفین عمل میں آئی اور کار خیر سید عبدالمنان ، سمیع اللہ خاں ، محمد جعفر ، محمد عبدالجلیل کی سرپرستی میں انجام پایا ۔
نماز جنازہ مفتی شکیل احمد قاسمی رحمانی ناظم مدرستہ الرشاد نے پڑھائی جبکہ غسل کے فرائض ڈاکٹر محمد تقی الدین ہیڈ آف دی مارچری ڈپارٹمنٹ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی سرپرستی میں انجام دیئے گئے ریٹائرڈ ڈی ایس پی جناب غلام مرتضیٰ احمد نے اس موقع پر کہا کہ جب ہمارے یہاں کسی کا انتقال ہوجانے پر ہماری آنکھوں سے بے اختیار انسو رواں ہوجاتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ خوف خدا سے روتا ہے تو اس کے آنسو سے پلک بھگنے نہیں پاتے کہ اللہ عزوجل اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ ایسے میں بہتر یہ ہے کہ میت کی مغفرت کیلئے بارگاہ رب العزت میں روتے ہوئے دعا کی جائے ۔ آپ کو بتادیں کہ سیاست ملت فنڈ ان لاوارث مسلم میتوں کی گولی پورہ قبرستان ، دائرہ میر مومن ، جان اللہ شاہ قبرستان ، کاروان قبرستان ، کوکٹ پلی قبرستان، دبیر پورہ قبرستان ، ایرا گڈہ قبرستان اور ٹپہ چبوترہ قبرستان میں تدفین عمل میں لاتا ہے ۔ آج جن 11 نعشوں کی تدفین عمل میں آئی اس کیلئے محترمہ بشریٰ تبسم نے غیر معمولی تعاون کیا ۔ زاہد حسین نے بتایا کہ انہوں نے 277 کفن فراہم کئے اور ہمیشہ اس نیک دل حاتون نے دست تعاون دراز کیا ہے ۔ بشریٰ تبسم نے اس کارخیر میں حصہ لینے والوں کے حق میں دعا کی کہ اللہ رب العزت انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے ۔ زاہد حسین کے مطابق سید زبیر ہاشمی بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی خصوصی توجہ کے باعث ہزاروں لاوارث مسلم نعشوں کو شمشان میں سپرد آگ کئے جانے یا ڈمپ یارڈ میں دبائے جانے سے بچایا جاسکا۔