ہندوستانی سیاست کسی دور میں اخلاقیات اور نظریات کی علامت ہوا کرتی تھی ۔ سیاسی وابستگی نظریات کی بنیاد پر ہوا کرتی تھی اور عہدوں یا اقتدار کے لالچ میںنہیں ہوا کرتی تھی ۔ سیاسی وابستگی کو تمام تر اختلافات کے باوجود ختم نہیں کیا جاتا تھا اور نہ کسی مختلف نظریہ سے وابستگی اختیار کی جاتی تھی ۔ سیاست اورعوامی زندگی کو عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور اسی جذبہ سے سیاست میں قدم رکھا جاتا تھا ۔ اقتدار یا عہدوںکا لالچ نہیں ہوا کرتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ہندوستانی سیاست نے مثال قائم کی تھی ۔ اخلاقیات اور اصول پسندی کی وجہ سے ہی سیاسی مخالفین کا احترام بھی کیا جاتا تھا اور ان کی تجاویز کو قبول کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی تھی ۔ اگر کسی سیاسی لیڈر کو اپنی جماعت یا لیڈر سے اختلاف ہوا بھی کرتا تو اس کی بنیاد پر اپنے لئے کوئی الگ راہ اختیار نہیں کرتا بلکہ پارٹی میں ہی داخلی طور پر اپنی رائے پیش کرتے ہوئے اسے منوانے کی کوشش کی جاتی تھی ۔ تاہم بدلتے وقتوں نے ساری صورتحال ہی تبدیل کردی ہے اور اب سیاست صرف اقتدار اور عہدوں کا کھیل ہو کر رہ گئی ہے ۔ اخلاقیات کا تو کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں رہ گیا ہے اور عہدے حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے ہمارے سیاسی قائدین تیار ہوگئے ہیں۔ سیاست کو اب محض دولت اور شہرت کمانے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے اور اس کیلئے سیاسی اور نظریاتی وابستگی کی کوئی اہمیت نہیںر ہ گئی ہے ۔ صرف ایک نظریہ ہی پنپ رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر اقتدار کا ساتھ رکھا جائے ‘ اقتدار کے ساتھ رکھا جائے اور دولت اور شہرت کمائی جائے ۔ سیاسی قائدین آج اس تجارت کے ذریعہ کروڑہا روپئے کی دولت کے مالک بن رہے ہیں اور ان کیلئے سیاسی وابستگی اور نظریات کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے ۔ جس سیاسی جماعت کے نظریات اور اس کی پالیسیوں کی مسلسل مخالفت کی جاتی رہی ہے اور جس کے خلاف احتجاج تک کیا گیا ہے اور بڑے بڑے بیانات دئے گئے ہیں اسی جماعت کا دامن تھامنے اور اس کا ساتھ اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جا رہی ہے اور عوام کے سامنے اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی جا رہی ہے ۔
سیاسی قائدین کیلئے اگر کسی بات کی اہمیت رہ گئی ہے تو وہ یہی ہے کہ کسی طرح اقتدار کے ساتھ رہا جائے ۔ کسی طرح اقتدار کے گلیاروں میں ان کا گذر ہوتا رہے اور سرکاری سرپرستی میں ان کے کام کاروبار کا سلسلہ چلتا رہے پھلتا پھولتا رہے ۔ عوام کی خدمت یا عوام کی بہتری سے انہیں کوئی سروکار نہیں رہ گیا ہے ۔ آج کسی پارٹی کے ساتھ تو کل کسی اور پارٹی کے ساتھ رہنا ان کیلئے معمول بن گیا ہے ۔ وہ نظریات کی سیاست کی بجائے فائدہ اور سہولت کی سیاست کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں کا بھی یہی وطیرہ ہے کہ جو کوئی ان کی مخالفت کرے یا تو اسے خرید لیا جائے یا پھر اس کو سرکاری ایجنسیوں اور مقدمات سے خوفزدہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ ملا لیا جائے ۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں کئی قائدین کے خلاف خود حکومت کے ذمہ داروں کی جانب سے کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے گئے ‘ مقدمات درج کئے گئے اور ان کے کالے کرتوت عوام میں پیش کئے گئے تھے تاہم چند ہی دن بعد انہیں اپنی صفوں میں شامل کرلیا گیا ۔ ان کے تمام مقدمات پر خاموشی اختیار کرلی گئی اور حد تو یہ ہے کہ انہیں ذمہ دار عوامی عہدے بھی فراہم کردئے گئے ۔ کئی ایسے ہیں جو کسی ریاست کے چیف منسٹر بن گئے ہیں تو کسی ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر بنائے گئے تھے ۔ تو کئی ایسے بھی ہیں جو مرکزی وزارت میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں یا پھر انہیں کچھ اور دوسرے عوامی اور سرکاری عہدے بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ یہی اخلاقیات کا زوال ہے ۔
سیاسی قائدین جہاں اخلاقیات کو ترک کرتے ہوئے نفع و نقصان کی سیاست کرنے لگے ہیں وہیں سیاسی جماعتیں بھی نظریات و وابستگی کا خیال کئے بغیر محض سیاسی و عددی طاقت میںاضافہ کو ترجیح دے رہی ہیں اور ان کیلئے بھی وابستگی کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے ۔ یہ صورتحال ہندوستانی سیاست کے معیار کو متاثر کرر ہی ہے بلکہ بڑی حد تک متاثر کربھی چکی ہے ۔ عوام چونکہ جمہوریت میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ایسے میں انہیں اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی قائدین کی موقع پرستی کی جو روایت چل پڑی ہے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے اور ایسے قائدین کو سبق سکھانا چاہئے ۔