حافظ محمد صابر پاشاہ
تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کا کردار زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ ان عظیم نفوسِ قدسیہ میں سفیرۂ کربلا، فاتحِ کوفہ و شام، حضرت سیدہ زینب بنتِ علی رضی اللہ عنہا کا نام انتہائی درخشاں اور تابندہ ہے۔ آپؓ وہ عظیم المرتبت خاتون ہیں جنہوں نے میدانِ کربلا کے بعد حق و صداقت کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا بلکہ اپنے صبر، استقامت، بصیرت، جرأتِ ایمانی اور بے مثال خطابت کے ذریعہ اس انقلابِ حسینی کو رہتی دنیا تک زندہ و تابندہ کر دیا۔سیدہ زینب ؓمحض حضرت علی المرتضیٰ ؓاور حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ کی صاحبزادی اور سیدنا امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کی ہمشیرہ ہی نہیں تھیں، بلکہ آپؓ صبر و رضا، عزیمت و ہمت، علم و حکمت اور فصاحت و بلاغت کا ایسا حسین امتزاج تھیں کہ تاریخ آپ کو ’’ثانیٔ زہرا‘‘ اور ’’سفیرۂ کربلا‘‘ کے عظیم القابات سے یاد کرتی ہے۔جب سیدنا امام حسین ؓنے دینِ مصطفوی ﷺ کی بقا اور امت کی اصلاح کیلئے کربلا کا سفر اختیار فرمایا تو حضرت زینب ؓنے بھی شوہر کی اجازت سے اس عظیم مشن میں شرکت کی۔ آپؓ بخوبی جانتی تھیں کہ یہ سفر واپسی کا نہیں بلکہ قربانی، صبر اور آزمائش کا سفر ہے، کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ پہلے ہی حضرت امام حسین ؓکی شہادت کی خبر دے چکے تھے۔ اس کے باوجود آپؓ نے نہ صرف اپنے بھائی کا ساتھ دیا بلکہ اپنے دو لختِ جگر حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہما کو بھی راہِ حق میں قربان کر دیا۔روزِ عاشورا جب یکے بعد دیگرے آلِ رسول ؐکے جاں نثار شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہو رہے تھے، حضرت زینب ؓ ہر لمحہ صبر و استقامت کا پیکر بنی رہیں۔ امامِ عالی مقام ؓکو میدانِ کارزار کیلئے رخصت کرتے وقت آپؓ کا عزم، حوصلہ اور ایثار تاریخ کے سنہری اوراق کا لازوال باب ہے۔امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب اہلِ بیتِ اطہار کے خیموں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، بچے یتیم ہوئے، خواتین اسیر بنائی گئیں اور امام زین العابدین رضی اللہ عنہ شدید علالت میں تھے، ایسے کٹھن ترین حالات میں حضرت زینب ؓ نے پورے قافلۂ اہلِ بیت کی قیادت سنبھالی۔ میدانِ کربلا سے کوفہ اور پھر شام تک آپؓ نے جس صبر، وقار اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ انسانیت کا بے مثال باب ہے۔کوفہ میں ابنِ زیاد کے دربار اور شام میں یزید کے ایوانِ اقتدار میں حضرت زینب ؓکے خطبات حق گوئی، جرأتِ ایمانی اور فصاحت و بلاغت کا ایسا شاہکار ہیں جنہوں نے باطل کے ایوانوں کو لرزا دیا۔ آپؓ نے نہایت جلال، حکمت اور بے خوفی کے ساتھ ظالم حکمرانوں کو ان کے ظلم پر للکارا اور واضح کر دیا کہ شہادت شکست نہیں بلکہ حق کی ابدی فتح کا عنوان ہے۔ انہی تاریخی خطبات نے کربلا کے پیغام کو ہر دور کے انسان تک پہنچایا اور یزیدی اقتدار کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔حضرت زینب ؓنے ثابت کر دیا کہ عورت اگر ایمان، علم، بصیرت اور حوصلے سے آراستہ ہو تو وہ تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ آپؓ نے دنیا کو یہ درس دیا کہ صبر کمزوری نہیں بلکہ قوت ہے، اور حق کی خاطر ہر قربانی انسان کو امر کر دیتی ہے۔
بلاشبہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خونِ مقدس سے کربلا میں حق کی تاریخ رقم کی، مگر اس تاریخ کو رہتی دنیا تک پہنچانے، ظلم کے خلاف آواز کو زندہ رکھنے اور انقلابِ حسینی کو دوام بخشنے کا عظیم فریضہ حضرت زینب ؓنے انجام دیا۔ آج بھی اگر اُمتِ مسلمہ عزت، آزادی، حق گوئی، عدل، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہتی ہے تو اسے سیدہ زینب ؓکی سیرتِ مبارکہ سے رہنمائی حاصل کرنی ہوگی۔ آپ کی حیاتِ طیبہ ہر دور کی خواتین بلکہ پوری انسانیت کیلئے صبر، عزیمت، غیرتِ ایمانی اور دعوتِ حق کا ابدی پیغام ہے۔سلام ہو اس عظیم خاتون پر جنہوں نے کربلا کے پیغام کو قیامت تک زندہ کر دیا۔