سیف آباد منٹ میوزیم میں یادگار سکوں کو ڈھالنے کا کام ہنوز جاری

   

حیدرآباد ۔ 3 اگست (سیاست نیوز) ایک اہم مینٹ (ٹکسال) سے ایک نمائش میں تبدیل کئے جانے کے تقریباً دو سال بعد سیف آباد منٹ میوزیم میں حیدرآباد کی شاندار تاریخ اور صدیوں میں اس کے معاشی ارتقاء پذیری کے آئینہ دار سکوں کے کلکشن کی نمائش کی جارہی ہے۔ اگرچیکہ ایک باقاعدہ اساس پر کرنسی نوٹس اور سکوں کو ڈھالنے کے اس کے اصل مقصد کیلئے اسے استعمال نہیں کیا جارہا ہے تاہم سیف آبادمنٹ پر اب بھی مختلف شخصیتوں کی یاد میں مختلف موقعوں پر چاندی کے یادگاری سکوں کو ڈھالنے اور جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یادگار سکوں کی فروخت اس فیسلیٹی کیلئے آمدنی کا ایک ذریعہ بن گئی ہے جو مختلف اسکولس کے طلبہ کیلئے آرٹیفیاکٹس کے ایک ون۔ اسٹاپ میوزیم کی طرح بھی ہے جہاں مغل، ستواہنا، راجا راجاچولہ، قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کے دور میں حیدرآباد دکن میں ہونے والی معاشی ترقی اور ارتقاء پذیری کے تاریخی پس منظر کی معلومات فراہم ہوتی ہیں۔ آثارقدیمہ کی اشیاء اور سکوں میں دلچسپی رکھنے والے شہر کے لوگ اکثر یادگار سکوں کی خریدی کیلئے اس میوزیم پہنچتے ہیں۔ اس طرح کے سکوں کو حکومت کی جانب سے مختلف موقعوں پر جاری کیا جاتا ہے۔ اس میوزیم میں آثارقدیمہ اور قدیم سکوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو سطح مرتفع دکن کے حکمرانوں کی شاندار تاریخ سے آگاہی حاصل ہوتی ہے جو سنہرے سکوں، میڈلس اور ٹوکنس پر کندہ ہے، جن کی اس میوزیم میں نمائش کی جاتی ہے۔ پہلے اس منٹ کو 1803 میں اس وقت کے نظام ۔III نواب سکندر جاہ نے سلطان شاہی میں قائم کیا تھا، بعد میں اسے 1893 میں رائل مینٹ آف حیدرآباد کے طور پر دارالشفاء منتقل کیا گیا۔ نظام ششم محبوب علی خان اور نظام ہفتم میرعثمان علی خاں کو بابائے ماڈرن منٹ سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے 1895 میں مشینری کو متعارف کیا۔ بعد میں 1903 میں حیدرآباد اسٹیٹ میں سکوں کو ڈھالنے کے پورے طریقہ کار کو یوروپی منٹس کے خطوط پر عصری مشینری سے بدل دیا گیا اور منٹ کو سیف آباد منتقل کیا گیا۔ 1950 میں ریاست حیدرآباد کے فیڈرل فینانشیل انٹگریشن کے بعد منٹنگ کا کام باضابطہ طور پر حکومت ہند نے لے لیا۔ اس فیسلیٹی کو جسے اردو، فارسی اور عربی تحریر کے نقش کے ساتھ سونے، چاندی اور تانبے کے سکوں کو ڈھالنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی اور اختیار دیا گیا تھا، 7 جون 2022ء کو ایک نمائش میں تبدیل کیا گیا، جہاں سکوں، کرنسی نوٹ اور سکوں کو ڈھالنے کیلئے استعمال کئے جانے والے آلات کی نمائش کی جارہی ہے۔ فی الوقت اس نمائش کا انتظام سیکوریٹی پرنٹنگ اینڈ منٹنگ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ (SPMCIL)، حکومت ہند کی جانب سے کیا جارہا ہے۔